کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 512
اس شبہ کا ازالہ:
اس شبہ کا ازالہ متعدد طریقوں سے کیا جاسکتا ہے:
اولًا:.... یہ روایت مسند ابی یعلیٰ میں ہے، لیکن صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس کی سند میں دو علتیں ہیں : [1]
’’محمد بن اسحاق مدلس ہے اور اس کی یہ روایت معنعن ہے۔‘‘[2]
سلمہ بن فضل کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں : ’’اس کے پاس منکر روایات ہیں ۔‘‘
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: ’’صدوق۔ بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔‘‘[3]
امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ میں کہتا ہوں ، یہ سند ضعیف ہے اور اس میں دو علتیں ہیں :
(۱) ابن اسحق کا عنعنہ اور اس کی تدلیس (۲) سلمہ بن فضل کا ضعف مشہور ہے۔‘‘
حافظ نے کہا: ’’یہ صدوق اور کثیر الخطاء ہے۔‘‘[4]
اس حدیث کا متن بھی ظاہری طور پر منکر ہے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ....۔‘‘ نیز اسے بوصیری نے ضعیف کہا۔[5]
ثانیاً:.... اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو اس میں یہ وضاحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ایسے جملوں سے چشم پوشی کیا کرتے تھے۔ جن کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوتا کہ اس جملے کے ظاہری الفاظ اس کا مقصد نہیں اور یہ کہ وہ صرف شدید محبت اور غیرت ازدواجی کی وجہ سے کہے گئے ہیں ۔ پھر یہ بھی قابل غور ہے کہ ہر جگہ ’’زعم‘‘ شک کے معانی میں نہیں آتا۔ اس کے معانی کہنا اور یاد کرنا یا تذکرہ کرنا بھی ہیں ۔ جیسے کہ ابن منظور[6] نے ابن بری[7]سے روایت کی کہ کلام عرب میں ’’زعم‘‘ کے چار معانی آتے ہیں ۔ اور
[1] مسند ابی یعلی: ۴۶۷۰۔
[2] الضعفاء و المتروکین لابن الجوزی، ج ۳، ص: ۴۱۔ التبیین لاسماء المدلسین لابی الوفا الحلبی، ج ۱، ص: ۱۷۱۔
[3] تہذیب الکمال للمزی، ج ۱۱، ص: ۳۰۶۔ تقریب التہذیب لابن حجر، ج ۱، ص: ۲۴۸۔
[4] سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ، حدیث نمبر: ۲۹۸۵۔
[5] الاتحاف المہرۃ، حدیث نمبر: ۳۱۹۰۔
[6] محمد بن مکرم بن علی ابو الفضل الرویفعی لغت میں امام شمار ہوتا ہے۔ ۶۳۰ ہجری میں پیدا ہوا۔ قاہرہ میں اہم عہدے پر فائز رہا۔ پھر طرابلس کا قاضی بن گیا۔ ادب کی طویل کتابوں کو مختصر کرنے کا اسے بہت شوق تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’لسان العرب‘‘ و ’’نثار الازہار‘‘ مشہور ہیں ۔ ۷۱۱ ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۷، ص: ۱۰۸۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل باشا، ج ۳، ص: ۱۵۹۔)
[7] عبداللہ بن بری بن عبدالجبار ابو محمد المقدسی اشافعی، اپنے وقت کا مشہور نحوی تھا۔ ۴۹۹ ہجری میں پیدا ہوا۔ اس کی تصنیف ’’جواب المسائل العشر‘‘ مشہور و متداول ہے۔ ۵۸۲ ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۱، ص: ۱۳۵۔ طبقات الشافعیۃ للسبکی، ج ۷، ص: ۱۲۲۔)