کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 507
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ سند صحیح ہے اور صحاح ستہ میں سے کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔ البتہ حافظ ضیاء مقدسی نے اسے اپنی مستخرج میں نقل کیا ہے۔[1]
بقول مصنف (سیرۃ عائشہ) اصل حدیث صحیحین میں ہے۔[2]جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے راز افشاء کیا سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں ۔ اور اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں ۔ طاہر بن عاشور نے کہا: اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو راز دیا تھا اور جسے انھوں نے بتایا تھا وہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔[3]
شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی[4] نے اس بات پر مفسرین کا اجماع نقل کیا وہ کہتے ہیں : ’’مفسرین کا اجماع ہے کہ راز کا افشاء سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے سرزد ہوا کسی اور سے نہیں ۔‘‘[5]
یہ بات شیعہ کی تفاسیر میں بھی ثابت ہے، جیسے ’’مجمع البیان للطبرسی‘‘ میں مذکور ہے۔[6]
طبرسی کا شمار شیعہ کے ان علماء میں ہوتا ہے جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علو شان کے معترف ہیں ۔ زین العابدین کو رانی نے کہا: اسی طرح ان کے علماء میں سے طبرسی نے بھی اپنی تصانیف میں صحابہ کی علو شان کا اعتراف کیا ہے۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیَ عَنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ۔
اس نے مذکورہ آیات کو صحابہ کی عمومی اور خصوصی ثنا شمار کیا ہے بلکہ اس نے مزید آیات بھی اس ضمن میں درج کی ہیں ۔[7]
۲۔چلو یہی فرض کر لیتے ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشاء کیا تھا تو زیادہ
[1] تفسیر ابن کثیر، ج ۸، ص: ۱۵۹۔
[2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۴۹۱۳۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۳۷۶۵۔
[3] التحریر و التنویر لابن عاشور، ج ۲۸، ص: ۳۵۱۔
[4] شاہ عبدالعزیز بن ولی اللہ بن عبدالرحیم العمری الدہلوی، اپنے وقت کے ہندوستان میں بہت بڑے عالم تھے۔ مفسر، محدث اور کتب شیعہ پر ان کو عبور حاصل تھا۔ علم کا وسیع سمندر تھے۔ ۱۱۵۹ ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’فتح العزیز‘‘ و ’’مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ فی الکلام علی مذہب الشیعۃ‘‘ ہیں اور ثانی الذکر کی پہلے کوئی مثال نہیں ۔ ۱۲۳۹ہجری میں وفات پائی۔ (’’مقدمۃ مختصر التحفۃ‘‘ و الاعلام للزرکلی، ج ۴، ص: ۱۴۔)
[5] مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ، رقم: ۲۶۹۔
[6] مجمع البیان للطبرسی، ج ۱۰، ص: ۵۶۔۵۸۔ مصنف نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مختصر التحفۃ اثنی عشریہ، رقم: ۲۷۰۔
[7] الیمانیات المسلولۃ علی رقاب الرافضۃ المخذولۃ، ص: ۲۴۶۔