کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 505
’’یقیناً جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں ، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں ۔‘‘
تو تقویٰ کی شرط معصوم عن الخطا ہونا نہیں اور نہ ہی کبیرہ گناہ سے پرہیز تقویٰ کی شرط ہے۔ کیونکہ کبیرہ گناہ سے بندے کو توبہ کی توفیق ہوتی ہے۔ بلکہ متقی آدمی سے بھی کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ سیّدنا حاطب بن ابی بلتعہ[1] رضی اللہ عنہ سے کبیرہ گناہ سرزد ہو گیا۔ لیکن اس گناہ سے پہلے اور اس گناہ کے بعد ان کی نیکیاں اسے مٹانے کا موجب بن گئیں ۔ اگرچہ وہ بہت بڑا تھا۔
ام المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دیانت و امانت، ورع و زہد، حسن کردار و اخلاق، اللہ کے ساتھ مضبوط رابطے، بکثرت روزے رکھنے اور جود و سخا میں دریا دلی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھیں ۔ اسی طرح ام المؤمنین سیّدہحفصہ رضی اللہ عنہا صوامہ و قوامہ تھیں اور ان کے گواہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ چنانچہ امام حاکم نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے کہا:
((رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّہَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃٌ، وَ اِنَّہَا زَوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ)) [2]
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ کو منا لیں کیونکہ وہ کثرت سے روزے رکھنے والی اور بکثرت قیام اللیل کرنے والی اور جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بھی ہیں ۔‘‘
ابو العباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے ان دونوں زوجات مطہرات کو توبہ کی طرف توجہ دلائی۔ اس لیے ان کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جائے گا کہ انھوں نے توبہ نہیں کی۔ باوجودیکہ ان دونوں کے بلند درجات کے ثبوت موجود ہیں اور یہ کہ وہ دونوں جنت میں ہمارے نبی کی بیویاں ہوں گی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی زندگی، اس کی عیش و عشرت اور اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر سے ان کو کوئی ایک چیز منتخب کرنے کا اختیار دیا تو ان سب نے اللہ، اس کے رسول اور
[1] حاطب بن ابی بلتعہ لخمی رضی اللہ عنہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مقوقس کی طرف دعوت نامہ دے کر بھیجا۔ قریش کے مشہور شہسوار تھے۔ جاہلیت کے عظیم شاعر تھے۔ ۳۰ ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر، ج ۱، ص: ۹۳۔ الاصابۃ لابن حجر، ج ۲، ص: ۴۔)
[2] شرح مشکل الآثار للطحاوی، ج ۱۲، ص: ۲۷۔ المعجم الاوسط للطبرانی، ج ۱، ص ۵۴، حدیث نمبر: ۱۵۱۔ اسے حاکم نے ج ۴، ص: ۱۷ پر روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد، ج ۹، ص: ۳۹۳ پر کہا ہے کہ اس کی سند میں متعدد راویوں کو میں نہیں جانتا اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع، حدیث نمبر: ۴۳۵۱ میں حسن کہا اور یہ حدیث عمار بن یاسر سے ص: ۲۶۲ پر گزر چکی ہے۔