کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 499
نور اللہ تستری اور صدر الدین شیرازی الحسینی[1] اور ان کے پیروکار کہتے ہیں کہ یہ راز علی کے وصی ہونے پر مشتمل تھا اور جس نے یہ افشاء کیا وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔[2] روافض اس بہتان کی اس طرح تکمیل کرتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی ا للہ عنہما کو اس راز کے بارے میں معلوم ہوا تو ان دونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں کو ساتھ ملا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلا کر قتل کر دیا۔[3] نیز اہل تشیع کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ﴾ (التحریم: ۴) ’’اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہ یقیناً تمہارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقیناً اللہ خود اس کا مدد گار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں ۔‘‘ دلالت کرتا ہے کہ تم دونوں کے دل ایمان سے خالی ہو کر کفر سے بھر گئے اور بیاضی کے بقول[4] انھوں نے یہ روایت حسین بن علوان اور دیلمی کے واسطے سے صادق علیہم السلام سے بیان کی ، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ﴿ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾(التحریم:۳) ’’اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی۔‘‘ وہ حفصہ تھیں ۔ صادق علیہ السلام نے کہا،
[1] علی بن احمد بن محمد الحسینی جو علی خان بن میرزا احمد کے نام سے مشہور ہے اور اس کا لقب ابن معصوم پڑ گیا۔ اس کا اصل وطن شیراز ہے۔ ادب، شعر اور احوال رواۃ کا عالم تھا۔ فرقہ امامیہ کا شیعہ تھا۔ حجاز میں ۱۰۵۲ ہجری میں پیدا ہوا اور طویل مدت تک ہندوستان میں قیام کیا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’سلافۃ العصر فی محاسن اعیان العصر‘‘ و ’’الدرجات الرفیعۃ فی طبقات الامامیۃ من الشیعۃ‘‘ مشہور ہیں ۔ شیراز میں ۱۱۱۹ ہجری کو فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۳، ص: ۲۷۹۔) [2] علم الیقین للکاشانی، ج ۲، ص: ۶۳۷۔۶۳۹۔ احقاق الحق للتستری، ص: ۳۰۷۔ الدرجات الرفیعۃ للشیرازی، ص: ۲۹۶۔۲۹۸۔ [3] تفسیر العیاشی، ج ۱، ص: ۲۰۰۔ بحار الانوار للمجلسی، ج ۸، ص: ۶۔ تفسیر الصافی للکاشانی، ج ۱، ص: ۳۰۵۔ وغیرہا۔ [4] ابو محمد علی بن محمد بن یونس البیاضی العاملی النباطی العنفجوری۔ اہل نبط سے امامی شیعہ تھا جو کوہ عامل میں ۷۹۱ ہجری میں پیدا ہوا اس کی مشہور تالیفات ’’الصراط المستقیم الی مستحقی التقدیم‘‘ جس کا موضوع ان کے بارہ اماموں کی امامت کا ثبوت ہے۔ ’’منتہی السول فی شرح الفصول‘‘ ۸۷۷ ہجری میں فوت ہوا۔ (معجم اعلام جبل عامل لعلی داود جابر، ج ۳، ص: ۳۲۰۔ و الاعلام للزرکلی، ج ۵، ص: ۳۴۔