کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 495
یہ بھی کہا جاتا ہے وہ ھویٰ مذموم ہوتی ہے جو ہدایت سے خالی ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللّٰهِ﴾ (القصص: ۵۰) ’’اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔‘‘ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو غور و فکر کرنا چاہیے۔[1] اس معنی میں بدر کے قیدیوں کے متعلق مشورے کی بابت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کی رائے کو پسند کر لیا اور میری رائے کو پسند نہ کیا اور اس حدیث میں ھویٰ کا لفظ پسندیدہ و مقبول محبت کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : (سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:) میں تو یہ دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلد از جلد مکمل کرتا ہے۔ یعنی میں تو اللہ کو صرف اسی حال میں دیکھتی ہوں کہ آپ جو چاہتے ہیں اسے جلد مکمل کرتا ہے اور جو آپ پسند کرتے اور منتخب کرتے ہیں اس کی بابت فوراً وحی نازل کر دیتا ہے۔[2] علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : (سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جو عرض کیا) اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آپ سے تخفیف کرتا ہے اور معاملات میں آپ کو وسعت عطا کرتا ہے۔ اسی لیے آپ کو اس نے اختیار دے دیا۔[3] تو فی الحقیقت یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ہے۔ اگر ہم یہ بھی کہیں کہ زیادہ مناسب یہ الفاظ تھے کہ آپ کی مرضی اور آپ کی خواہش کے مطابق الفاظ نہ استعمال کیے جاتے، لیکن ان الفاظ کو غیرت اور جلاپے نے واضح کیا ہے۔ اگرچہ اس طرح کے سیاق میں غیرت معاف ہے۔ جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے قرطبی[4] سے نقل کیا ہے۔[5] اس جیسا کلام معاف ہونے کی واضح دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات کا انکار نہیں کیا بلکہ
[1] حاشیۃ السندی علی سنن النسائی، ج ۶، ص: ۵۴۔ [2] فتح الباری لابن حجر، ج ۸، ص: ۵۲۶۔ [3] شرح مسلم للنووی، ج ۱۰، ص: ۵۰۔ [4] احمد بن عمر بن ابراہیم ابو العباس القرطبی، مالکی فقیہ، محدث، اسکندریہ (مصر) میں مدرس تھے۔ ۵۷۸ ہجری میں پیدا ہوئے، کبار ائمہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’المفہم شرح صحیح مسلم‘‘ اور ’’مختصر الصحیحین‘‘ ہیں ۔ ۶۵۶ ہجری میں وفات پائی۔ (البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ج ۱۳، ص: ۲۱۳۔ شذرات الذہب لابن العماد، ج ۵، ص: ۲۷۲۔) [5] فتح الباری لابن حجر، ج ۹، ص: ۱۶۵۔