کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 494
سب سے پہلے معصیت کا انکار کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی تو ہیں جنھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر لٹکا ہوا وہ پردہ یا کپڑا پھاڑ دیا جس میں تصاویر تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو غیبت سے روک دیا۔ وغیرہ وغیرہ۔
آپ کا ان اقوال و افعال پر خاموش ہو جانا یا کم از کم انکار نہ کرنا ان اقوال و افعال کے جواز کی دلیل ہے اور مزید یہ کہ یہ افعال و اقوال حسن خلق کے منافی نہیں اور اگر یہ لوگ اھواء اور عصبیات سے خالی ہو جائیں تو معاشرے پر ان شبہات کا ذرّہ بھر بھی اثر باقی نہ رہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں ۔ یہ ظالم جو کچھ کہتے ہیں اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اللہ ہی مددگار ہے۔
۲۔یہ کہ اس عبارت میں ہماری امی جان رضی اللہ عنہا پر تنقید کا شائبہ تک نہیں ، کیونکہ انھوں نے یہ تو نہیں کہا: اور اللہ کی پناہ کہ وہ ایسی بات کہیں ۔ بے شک وحی کا موجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہے۔ یا یہ کہ وہ وحی پر تنقید کر رہی ہیں ۔ جس طرح کہ یہ عسکری کہتا ہے، بلکہ وہ تو یہ اعتراف کر رہی ہیں کہ وحی رب العالمین کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ وضاحت کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ اللہ عزوجل وہی پسند کرتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں ۔ نیز وہ اپنے یقین کا اعلان کرتی ہیں کہ وحی حق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف حق کی خواہش کرتے ہیں اور خواہش مطلق مذموم نہیں ۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے:
((لَا یُوْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہُ تَبِعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ))[1]
’’کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک اس کی خواہشات اس کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لایا ہوں ۔‘‘
ابن منظور نے کہا: ’’ھوی النفسکا معنی دلی ارادہ ہے۔ نیز اس نے کہا: مَا ہَوٰی اَیْ مَا اَحَبَّ۔ ’’اس نے جو چاہا۔‘‘ نیز اس نے کہا ہے: جب مطلقاً خواہش سے کلام کیا جائے گا تو وہ مذموم ہی ہو گا حتیٰ کہ اسے ایسے معنی سے متصف کرے جو اسے مذمت سے دُور کر دے۔‘‘[2]
[1] السنۃ لابن ابی عاصم، ج ۱، ص: ۱۲، حدیث نمبر: ۱۵۔ تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، ج ۴، ص: ۳۶۸۔ عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما اس حدیث کے راوی ہیں ۔ علامہ ابن باز نے شرح کتاب التوحید، ص: ۲۴۶ پر کہا کچھ علماء نے اس حدیث کو ضعیف کہا لیکن اس کا معنی صحیح ہے۔ اور البانی رحمہ اللہ نے کتاب السنۃ، حدیث نمبر ۱۵۔ میں اس حدیث کی سند کو ضعیف کہا ہے اور ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اپنے مجموع فتاوی، ج ۱۰، ص: ۷۵۷ میں کہا اس کا معنی صحیح ہے۔
[2] لسان العرب لابن منظور، ج ۱۵، ص: ۳۷۱۔۳۷۲۔