کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 487
دوسری فصل: سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہیجان انگیز شبہات شبہات کے جال میں پھنسنے سے احتیاط لازم ہے۔اس سے پہلے کہ ہم اصل موضوع پر بات کریں شبہ کی تعریف کرتے ہیں :لغت میں شبہ کا معنی التباس و اختلاط ہے۔ کہا جاتا ہے فلاں پر وہ معاملہ مشتبہ یعنی مشکوک ہو گیا اور خلط ملط ہو گیا۔ اس کی جمع شُبَہ اور شُبُہَات ہے۔[1] اصطلاح میں حق کے ساتھ باطل کا مل جانا اور اس طرح خلط ملط ہو جانا کہ دونوں میں تمیز کرنا مشکل ہو جائے۔[2] بعض نے کہا، وہ جو ثابت جیسا لگے لیکن ثابت نہ ہو۔[3] علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے شبہ کی یوں تعریف کی ہے: ’’شبہ اس وسوسے کو کہتے ہیں جو دل میں پڑ جاتا ہے اور وہ دل و انکشاف حق کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔‘‘[4] دلوں میں پڑنے والے شبہات فتنوں کی دو کی دو اقسام میں سے ایک ہے۔ چونکہ دل میں دو قسم کے فتنے پڑتے ہیں : (۱) فتنہ الشبہ اور (۲) فتنہ الشہوہ۔ البتہ فتنۂ شہوت زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ جب دل میں گھس جاتا ہے تو بہت کم ہی کوئی اس سے نجات حاصل کرتا ہے۔ اس کے متعلق علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’دل پر باطل کے دو قسم کے لشکر حملہ آور ہوتے ہیں : (۱) سرکش شہوات کا لشکر (۲) باطل شبہات کا لشکر جو دل بھی ان میں سے کسی طرف متوجہ ہو جائے اور اس کی طرف مائل ہو جائے اسے اپنے اندر جگہ دے دیتا ہے، پھر اس سے لبریز ہو جاتا ہے۔ پھر اس فتنہ کے موجبات اس کی زبان اور دیگر اعضاء کی طرف سرایت کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔
[1] تہذیب اللغۃ للازہری، ج ۶، ص: ۵۹۔ لسان العرب لابن منظور، ج ۱۳، ص: ۵۰۳۔ تاج العروس للزبیدی، ص: ۲۵۷۔ [2] التعریفات للجرجانی، ص: ۱۲۴۔ انیس الفقہاء للقونوی، ص: ۱۰۵۔ معجم لغۃ الفقہاء لمحمد قلعجی و حامد قتیبی، ص: ۲۵۷۔ [3] بدائع الصنائع للکاشانی، ج ۷، ص: ۳۶۔ درر الاحکام لملاخسرو، ج ۲، ص: ۶۴۔ الدر المختار لابن عابدین، ج ۴، ص: ۲۳۔ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، ۲۴؍۲۵۔ [4] مفتاح دار السعادۃ لابن القیم، ج ۱، ص: ۱۴۰۔