کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 481
جواب:.... اس حدیث کی سند ہی نہیں اور ارشاد القلوب الی الصواب حسن بن ابی الحسن دیلمی[1] نے تصنیف کی یہ آٹھویں صدی میں رہا۔ یہ مذہب کا غالی شیعہ تھا۔ جیسا کہ اسماعیل پاشا[2]نے ’’ہدیۃ العارفین‘‘ اور ’’ایضاح المکنون‘‘ میں لکھا، شاید یہ غالی شیعہ تھا، چنانچہ اس کی یہ روایت تمام قیاسات و قواعد کے مطابق کتاب و سنت کی مخالف ہے۔[3]
رہی کتاب ’’کشف الیقین‘‘ تو یہ ابن مطہر حلی کی ہے، ابو المنصور حسن بن یوسف امامی شیعہ اس کا مصنف ہے۔[4] ۷۲۶ ہجری میں فوت ہوا یہ بھی ایک غالی و فاسد العقیدہ شیعہ تھا۔ جس کا اس کی امامی مذہب کے متعلق تصنیفات اور منطق و کلام پر تحریرات سے بخوبی پتا چلتا ہے۔[5]
گیارہواں بہتان:
اہل تشیع کہتے ہیں :’’ ابن عباس نے عائشہ کی مذمت میں مشہور اشعار کہے ہیں جو درج ذیل ہیں :
تَجَمَّلْتِ تَبَغَّلْتِ
وَ لَوْ عِشْتِ تَفَیَّلْتِ
لَکِ التُّسْعُ مِنَ الثُّمُنِ
وَ بِالْکُلِّ تَصَرَّفْتِ
’’تو اونٹنی پر سوار ہوئی پھر خچر پر سوار ہوئی اور اگر تو زندہ رہی تو ہاتھی پر ضرور سوار ہو گی، تو نے سارے ترکے پر قبضہ کر لیا ہے حالانکہ تیرا حق الثمن (آٹھویں حصہ) میں سے التسع (نواں حصہ) ہے۔‘‘
[1] حسن بن محمد ابو محمد دیلمی شیعہ واعظ تھا اس کی تصنیفات میں سے ’’ارشاد القلوب الی الصواب‘‘ اور ’’غرر الاخبار و درر الآثار‘‘ مشہور ہیں ۔ (ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا، ج ۵، ص: ۲۸۷۔)
[2] اسماعیل بن محمد بن میر سلیم البابانی البغدادی عالم، فاضل، ادیب، مورخ، مصنف ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’ہدیۃ العارفین‘‘ و ’’ایضاح المکنون فی الذیل علی کشف الظنون‘‘ ہیں ۔ ۱۳۳۹ ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۱، ص: ۳۲۶۔)
[3] ایضاح المکنون فی الذیل علی کشف الظنون، ج ۱، ص: ۶۲۔
[4] ایضاح المکنون لاسماعیل باشا، ج ۱، ص: ۱۰۔
[5] اس کی تصانیف ’’التناسب بین الاشعریۃ و السوفسطائیۃ‘‘ و ’’الجوہر النضید فی شرح التجرید فی المنطق۔‘‘ و ’’الحادی عشر فی علم الکلام‘‘ و ’’مختلف الشیعۃ فی احکام الشریعۃ‘‘ و ’’منہاج الاستقامۃ فی اثبات الامامۃ‘‘ و ’’الدلائل البرہانیۃ فی تصحیح الحضرۃ الغرویۃ‘‘ ہیں ۔