کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 477
’’ان کذابوں کا یہ کہنا کہ بلال جب اذان کہہ چکا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے حکم دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھائے! واضح جھوٹ ہے۔ عائشہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھانے کا اسے حکم نہیں دیا اور نہ ہی بلال نے اس کے کسی حکم کی تعمیل کی۔ بلکہ اس نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی۔ تو وہاں موجود سب لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (بلال اور دوسروں کو بھی) فرمایا: ’’تم ابوبکر کو حکم دو تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔‘‘ اور نہ بلال رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمان سنا۔‘‘[1] نیز ان کو یہ بھی کہا جائے گا جو سند تم نے بیان کی ہے کیا اس پر اعتماد کیا جائے گا؟ اور کیا یہ صرف شیعہ کی کتب میں ہے جو سب جھوٹوں سے بڑے جھوٹے ہیں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے نرے جاہل ہیں ۔ مزید برآں یہ کلام جہالت اور جھوٹ پر مبنی لگتا ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ ابوبکر نے لوگوں کو صرف یہی نماز پڑھائی اس کے علاوہ کبھی ان کو امامت نہیں کروائی۔ جبکہ اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک مسلسل وہی نمازیں پڑھاتے رہے اور یہ سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اور نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کے ذریعے تھا۔ نمازوں میں صدیق رضی اللہ عنہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا فریضہ سر انجام دیتے رہنا صحیح احادیث و سنن اور مسانید میں متعدد طرق سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔[2] نیز بخاری، مسلم، ابن خزیمہ[3] اور ابن حبان وغیرہ جیسے صحیح روایات کرنے والے ائمہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور فوراً ہی آپ کی بیماری شدید ہو گئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔’’ تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے رسول اللہ! بے شک ابوبکر نرم مزاج ہیں وہ جونہی آپ کی جگہ پر کھڑیں ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مُرِیْ اَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَاِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ)) [4] ’’تم ابوبکر کو حکم دو تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تم تو یوسف علیہ السلام کے زمانے کی عورتوں کی
[1] منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ، ج ۸، ص: ۵۶۹۔ [2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۶۴۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۴۱۸۔ [3] محمد بن اسحاق بن خزیمہ ابو بکر نیشاپوری۔ حافظ، حجۃ، فقیہ، امام الائمہ، ۲۲۳ ہجری میں پیدا ہوئے۔ متعدد علوم سیکھے حتیٰ کہ ان کی مثال بیان کی جانے لگی۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’صحیح ابن خزیمۃ‘‘ اور ’’کتاب التوحید‘‘ ہیں ۔ ۳۱۱ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۴، ص: ۳۶۵۔ طبقات الشافعیۃ للسبکی، ج ۳، ص: ۱۰۹۔) [4] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۷۸۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۴۲۰۔