کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 473
مقدسی[1] نے بواسطہ ابو کریب محمد بن العلاء ہمدانی نے ان سب نے بواسطہ یونس بن بکیر، اس نے بواسطہ محمد بن اسحاق، اس نے ابراہیم بن محمد بن علی بن ابی طالب سے اس نے اپنے باپ محمد سے اس نے اپنے باپ علی بن ابی طالب سے روایت کی کہ لوگوں نے ماریہ رضی اللہ عنہا کو اس کے چچا زاد قبطی کے ساتھ بہت زیادہ مطعون کیا جو اس کے پاس آتا رہتا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’تو یہ تلوار لے جا اور اگر تو نے اسے اس (ماریہ) کے پاس دیکھا تو اسے قتل کر دے ....۔‘‘ طویل حدیث ہے۔[2]
لیکن اس حدیث میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ نہیں ۔ ہر صاحب انصاف اور حق کے پیروکار کو غور کرنا چاہیے کہ رافضیوں نے اس روایت کو کس طرح تبدیل کیا اور اس مکر و فریب کے کس طرح طومار باندھے۔ گویا جو صحیح روایت ہے وہ منافقوں کے سیاق میں ہے نہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ۔ چنانچہ منافقین ہی ماریہ کے متعلق جھوٹی خبریں پھیلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان الزامات سے بری کر دیا۔ منافقین دراصل اپنے سرغنہ عبداللہ بن ابی کے پیچھے لگ کر اس سے پہلے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچا چکے تھے اور اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اس گھناؤنے الزام سے بری کر دیا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو وہ تو اپنے رسول کا احترام کرتا ہے اور اس کی کسی بیوی پر تہمت نہ لگائے گا نہ اسے تہمت لگانے والوں میں شامل کرے گا۔ خصوصاً جب سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت قرآن میں نازل ہو گئی جو روئے زمین کے مشرق سے لے کر مغرب تک اور قیامت آنے تک پڑھی جاتی رہے گی۔ ہر مومن اس کی براء ت، اس کی فضیلت اور اسلام میں اس کی قدر و منزلت پر ایمان رکھے گا اور قرآن میں جو کچھ اس کی شان میں نازل ہوا ہے ہر مومن اس پر ایمان رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اصحاب اور آپ کے خاندان سے کینہ رکھنے والا ہر زندیق و ملحد اس پر بہتان لگاتا رہے گا۔[3]
[1] یہ محمد بن عبدالواحد بن احمد ابو عبداللہ المقدسی الحنبلی ہیں ۔ الشیخ، الامام، الحافظ، الحجۃ، امانت و دیانت کے ساتھ احادیث کی چھان بین کی۔ جرح و تعدیل میں ہمیشہ اعتدال سے کام لیا۔ احادیث کی صحت کی علامات اور ان کی علتوں کو بیان کیا۔ ۵۶۹ ہجری میں پیدا ہوا اور ۶۴۳ ہجری میں وفات پائی۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’فضائل الاعمال‘‘ اور ’’الاحادیث المختارۃ‘‘ مشہور ہیں ۔
[2] اسے طحاوی نے ’’شرح مشکل الآثار، حدیث نمبر: ۴۹۵۳ میں اور بزار نے مسند، ج ۲، ص: ۲۳۷، حدیث نمبر: ۶۳۴ میں اور ضیاء المقدسی نے الاحادیث المختارۃ، حدیث نمبر: ۷۳۵ میں اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء، ج ۳، ص: ۱۷۷۔۱۷۸ میں روایت کیا۔ مقدسی نے کہا اس حدیث کا ایک شاہد صحیح مسلم میں سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے السلسلۃ الصحیحۃ، حدیث نمبر: ۱۹۰۴ میں صحیح کہا ہے۔
[3] الانتصار لکتاب العزیز الجبار و للصحابۃ الاخیار علی اعدائہم الاشرار للدکتور ربیع المدخلی، ص: ۳۹۶۔۳۹۷۔