کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 472
گویا یہ روایت تمام رافضیوں کے نزدیک صحیح ہے۔[1]
روافض یہ روایت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بھی نقل کرتے ہیں :
﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾ (الحجرات: ۶)
’’اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔‘‘
علی بن ابراہیم قمی نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی تصنیف شدہ تفسیر[2] میں لکھا ہے:
’’یہ آیت ام ابراہیم ماریہ قبطیہ کی شان میں نازل ہوئی اور اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: بے شک ابراہیم آپ کے نطفے سے نہیں بلکہ وہ جریج قبطی سے ہے۔ کیونکہ وہ ماریہ کے پاس ہر روز آتا تھا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے فرمایا: تو یہ تلوار پکڑ لے اور مجھے جریج کا سر لا دے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا ﴾[3]
ہم یہاں کتب اہل السنۃ سے صحیح روایت اس لیے نقل کر رہے ہیں تاکہ ہماری پہلی تحریر کردہ بات مزید موکد و موثق ہو جائے کہ شیعوں کا خاص اسلوب صحیح نصوص میں فاسد اضافے شامل کرنا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صحیح روایت کو شیعوں نے کس قدر مسخ کیا ہے اور اس میں کتنا ردّ و بدل کیا ہے۔
طحاوی[4] نے بواسطہ عبدالرحمن بن صالح ازدی کوفی اور بزار، ابو نعیم ابن عساکر اور ضیاء
[1] الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی، ص: ۱۰۳۔ و الحصون المنیعۃ فی براء ۃ عائشۃ الصدیقۃ من افتراء ات الشیعۃ لمحمد عارف الحسینی، ص: ۵۴۔ الفتح الانعم فی براء ۃ عائشۃ و مریم لعلی احمد العال الطہطاوی، ص: ۳۰۔
[2] تفسیر قمی، ج ۲، ص: ۳۱۸۔۳۱۹۔
[3] البرہان فی تفسیر القرآن للبحرانی، ج ۱۳، ص: ۱۳۸۔ تفسیر نور الثقلین للحویزی، ج ۵، ص: ۸۱۔ بحار الانوار للمجلسی، ج ۲۲، ص: ۱۵۳۔۱۵۴۔
[4] احمد بن محمد بن سلامہ ابو جعفر طحاوی، حنفی، امام، حافظ محدث مصر، فقیہ، ۳۲۱ ہجری میں پیدا ہوا۔ ثبت، کوفیوں کے احوال کا سب سے بڑا عالم نیز دیگر مذاہب کو بھی بخوبی سمجھتا تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’شرح معانی الآثار‘‘ اور ’’بیان مشکل الآثار‘‘ ہیں ۔ ۳۲۱ ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۵، ص: ۲۷۔ تاج التراجم لابن قطلوبغا، ص: ۱۰۰۔)