کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 471
کی کتاب میں سے کسی آیت کا شان نزول باور کراتے ہیں تاکہ ان کا پھیلایا گیا تلبیس کا جال مضبوط ہو جائے۔ چنانچہ علی بن ابراہیم قمی اپنی تصنیف شدہ تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھتا ہے: [1]
﴿ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ﴾
(النور: ۱۱)
’’بے شک وہ لوگ جو بہتان لے کر آئے ہیں وہ تمہی سے ایک گروہ ہیں ، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘
اس نے لکھا:
’’بے شک جمہور (اہل سنت) نے لکھا کہ یہ آیت عائشہ کی شان میں نازل ہوئی۔ جب غزوہ بنی مصطلق میں اس پر تہمت لگائی گئی جو بنو خزاعہ کے خلاف تھی، لیکن خاص لوگوں (اہل تشیع) نے کہا کہ یہ ماریہ قبطیہ کی شان میں نازل ہوئی جب عائشہ نے اس پر تہمت لگائی۔‘‘
پھر علی بن ابراہیم قمی نے اپنی سند کے ساتھ یوں روایت کی:
’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپ کو اس کا شدید صدمہ ہوا چنانچہ عائشہ نے کہہ دیا: آپ کیوں غمگین ہو گئے حالانکہ وہ تو ابن جریج کا بیٹا تھا ....‘‘ [2]
یہ روایت سبائی رافضیوں کے نزدیک صحیح ثابت ہے جو اس پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور ان کے کبار علماء نے اس روایت کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہے۔ یہ رہا مفید[3] جو ان کے بڑے علماء میں شمار ہوتا ہے۔ وہ تاکیداً لکھتا ہے کہ یہ روایات شیعہ کے نزدیک صحیح اور تسلیم شدہ ہیں ۔ وہ کہتا ہے:’’ ماریہ قبطیہ پر عائشہ کے تہمت لگانے والی روایت رافضیوں کے نزدیک صحیح و مسلّم ہے۔‘‘[4]
[1] تفسیر القمی، ج ۲، ص: ۹۹۔
[2] اکثر رافضیوں نے یہ روایت علی قمی سے نقل کی ہے جیسے ہاشم بحرانی نے اپنی تفسیر البرہان فی تفسیر القرآن، ج ۴، ص: ۵۲۔۵۳ میں اور مجلسی نے بحار الانوار، ج ۲۲، ص: ۱۵۵ میں نقل کیا ہے۔
[3] محمد بن محمد بن نعمان ابو عبداللہ بن المعلم، امامیہ فرقے کا بڑا عالم شمار ہوتا ہے۔ اس کا لقب الشیخ المفید ہے۔ رافضیوں کا سرپنچ تھا۔ اس نے رافضیوں کے حق میں مسلمانوں کے اسلاف پر طعن و تشنیع سے لبریز کتابیں تصنیف کیں ۔ اس کی تقریباً دو سو کتابیں ہیں ۔ ۴۱۴ ہجری میں فوت ہوا۔ (لسان المیزان لابن حجر، ج ۵، ص: ۳۶۸۔ الاعلام للزرکلی، ج ۷، ص: ۲۱۔)
[4] ’’رسالۃ فیما اشکل من خبر ماریۃ ‘‘ للمفید، ص: ۲۹۔