کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 469
تلخیص امام ذہبی رحمہ اللہ نے کی ہے اس کا مطالعہ کر لے۔‘‘ وہ درج بالا عبارت کے ذریعے سے اس منکر روایت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ لیکن روایت کے شدید ضعف کے باوجود اس نے روایت پر اعتماد کو کافی سمجھا بلکہ اس نے اضافی جرم یہ کیا کہ حدیث کو لفظ بلفظ نقل نہیں کیا اور لوگوں کے لیے یہ اس کی تدلیس و تضلیل ہے، کیونکہ اگر وہ روایت کو لفظ بلفظ نقل کر دیتا تو ذرّہ بھر عقل رکھنے والے انسان کے لیے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جو جھوٹ منسوب کیا جا رہا ہے وہ اس سے بالکل بری ہیں ۔ جو کہ اس منکر حدیث میں موجود ہے۔ درحقیقت قیامت تک لکھے اور پڑھے جانے والے قرآن کے ذریعے سے اللہ عزوجل نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت کا اعلان کر دیا ہے۔ رافضی مانیں یا نہ مانیں ، اس سے حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ابن شاہین[1] نے بھی یہ روایت بواسطہ سلیمان بن ارقم، زہری سے نقل کی۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں بھی ہے۔ اس[2] نے کہا: ’’سلیمان ضعیف ہے۔‘‘[3] ہم اس روایت اور اس کے ذریعے سے جو افتراء ات لگائے گئے ہیں ان کا متعدد وجوہ سے جواب دیں گے: ۱۔یہ روایت باطل اور نہایت ضعیف ہے۔ اسے کبھی بھی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ یہ حدیث سلیمان بن ارقم کی روایات سے ہے جس کے ضعف پر ائمہ کا اتفاق ہے۔[4] بلکہ وہ پرلے درجے کا ضعیف ہے۔
[1] عمر بن احمد بن عثمان ابو حفص البغدادی ابن شاہین۔ حافظ، عالم شیخ العراق۔ ۲۹۷ ہجری میں پیدا ہوا۔ ثقہ تھا اس کی مشہور تصنیفات ’’تاریخ اسماء و صفات‘‘ اور ’’ناسخ الحدیث و منسوخہ‘‘ ہے۔ ۳۸۵ ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۶، ص: ۴۳۱۔ شذرات الذہب لابن العماد، ج ۳، ص: ۱۱۷۔) [2] الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر، ج ۵، ص: ۵۱۹۔ [3] السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی، ج ۱۰، ص: ۷۰۱۔۷۰۳۔ [4] تاریخ الکبیر للبخاری، ج ۴، ص: ۲۔ الضعفاء و المتروکون للنسائی، ص: ۴۸۔ الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم، ج ۴، ص: ۱۰۰۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، ج ۴، ص: ۲۲۸۔ و تاریخ بغداد للخطیب البغدادی، ج ۱۰، ص: ۱۸۔ الضعفاء و المتروکون لابن جوزی، ج ۲، ص: ۱۶۔ المغنی فی الضعفاء للذہبی، ج ۱، ص: ۲۷۷۔