کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 465
موجودگی کی دلیل لیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان عداوت اس وقت سے ہے۔[1] بلکہ ان کے کچھ ائمہ تو تاکیداً کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت متواتر امر ہے۔ یہ ضرور تاً معلوم ہے اور جو اس کا انکار کرے گا وہ ضروری اور ثابت شدہ بات کا انکار کرے گا۔ ابن ابی الحدید کہتا ہے: ’’شیعہ میں سے ایک گروہ نے کہا ہے کہ سورۃ النور کی آیات عائشہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئیں بلکہ وہ ماریہ قبطیہ کے متعلق نازل ہوئیں جب اس پر سیاہ فام قبطی غلام کے ساتھ ملوث ہونے کی تہمت لگی اور ان کا یہ انکار کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نزول آیات نہیں ہوا ایسا انکار ہے جو یقینی طور پر متواتر اخبار سے معلوم ہو چکا ہے۔‘‘[2] اسی ابن ابی الحدید نے دوسری جگہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت ثابت کی ہے۔ وہ لکھتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر صفوان بن معطل السلمی کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام لگا اور یہ مشہور قصہ ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیشہ پڑھی جانے والی اور لکھی جانے والی آیات کے ذریعے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت نازل کی اور جنھوں نے اس پر تہمت لگائی تھی ان کو حد قذف کے کوڑے لگائے گئے۔[3] صافی شیعی نے ’’الجوامع‘‘ میں لکھا کہ حدیث الافک کا سبب یہ بنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار گم کر دیا۔ قمی نے کہا: ’’جمہور علماء کے مطابق یہ آیات عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئیں اور غزوہ بنی مصطلق جو بنو خزاعہ کے خلاف لڑا گیا اس میں اس پر جو بہتان لگایا گیا....انتہٰی‘‘ اگر تو کہے کہ رازی[4] وغیرہ نے کہا: مسلمانوں کا اجماع اس بات پر ہے کہ اس سے مراد عائشہ رضی اللہ عنہا
[1] الجمل للمفید، ص: ۲۱۹۔ تلخیص الشافی للطوسی، ص: ۴۶۸۔ مناقب آل ابی طالب لابن شہر آشوب، ج ۱، ص: ۲۰۱۔ الصوارم المہرقۃ للتستری، ص: ۱۰۵ اور اسی کی کتاب احقاق الحق، ص: ۲۸۴۔ الدرجات الرفیعہ للشیرازی، ص: ۲۵۔ الفصول المہمۃ للموسوی، ص: ۱۵۶۔ الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ علی ام المومنین عائشۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی، ص: ۱۱۲۔۱۱۴۔ معمولی ردّ و بدل کے ساتھ۔ [2] شرح نہج البلاغۃ، ج ۱۴، ص: ۲۳۔ [3] شرح نہج البلاغۃ، ج ۹، ص: ۱۹۱۔ [4] محمد بن عمر بن حسین ابو المعالی الرازی۔ فخر الدین اس کا لقب ہے۔ علم کلام کا ماہر تھا۔ خوارزم کے بادشاہوں کے پاس اس کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔ اس کے لیے مختلف علاقوں میں مدارس بنائے گئے۔ اپنی موت سے پہلے علم کلام سے توبہ کر لی اور سلف کے مسلک پر واپس آ گیا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’مفاتیح الغیب‘‘ اور ’’المحصول‘‘ ہیں ۔ ۶۰۶ ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الشافعیۃ للسبکی، ج ۸، ص: ۸۰۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ج ۱۳، ص: ۵۵۔)