کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 462
بیٹھ گئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تو اپنے اوپر اپنے کپڑے کس لے۔ میں نے اپنی ضرورت پوری کی اور واپس آ گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے کیا ہے کہ میں نے ابوبکر اور عمر رضی ا للہ عنہما کے لیے آپ کو اس طرح پریشان نہیں دیکھا جس طرح آپ عثمان کے لیے پریشان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یقیناً عثمان شرمیلا آدمی ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ میں نے اپنی حالت پر رہتے ہوئے اگر اسے اجازت دے دی تو ہو سکتا ہے وہ اپنی ضرورت مجھ تک نہ پہنچا سکے۔‘‘[1]
ہم اس مقام پر اسی حدیث پر اکتفاء کرتے ہیں وگرنہ فضائل عثمان میں جو احادیث عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہیں وہ بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن ہم نے صرف ایک مثال پیش کی اور (رافضی) جو یہ کہتے ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان منافرت تھی اور ایک دن عثمان جب خطبہ دے رہے تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے یوں مخاطب ہوئیں : اے مسلمانوں کے گروہ! اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص یا چادر لہراتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چادر ابھی بوسیدہ نہیں ہوئی لیکن عثمان نے آپ کی سنت کو بوسیدہ کر دیا۔[2]
اس شبہے کا ازالہ :
یہ روایت یعقوبی[3] کے تفردات میں سے ایک ہے۔ یہ مذہب اور فرقے کی وجہ سے مشہور ہے۔ چونکہ وہ امامی شیعہ تھا اور اس نے تاریخ کا مطالعہ شیعی نکتہ نگاہ سے کیا اور اسی نظر سے تاریخی معلومات لکھیں ۔ وہ سیّدہ عائشہ، سیّدنا معاویہ، سیّدنا عمرو بن عاص اور سیّدنا خالد بن ولید[4] رضی اللہ عنہم کے متعلق بہت
[1] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۴۰۲۔
[2] تاریخ الیعقوبی، ج ۲، ص: ۱۷۵۔
[3] احمد بن اسحاق بن جعفر ابو العباس یعقوبی۔ بنو عباس سے ہونے کی وجہ سے عباسی کہلواتا تھا۔ قصہ گو تھا۔ متعصب شیعہ تھا۔ اس کی تصنیفات ’’تاریخ الیعقوبی‘‘ اور ’’اسماء البلدان‘‘ ہیں ۔ تقریباً ۲۸۴ ہجری میں ہوا۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۱، ص: ۹۵۔)
[4] خالد بن ولید بن مغیرہ ابو سلیمان رضی اللہ عنہ قریشی مخزومی ہیں ۔ سیف اللہ لقب تھا۔ جب سے اسلام لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ انھیں گھوڑوں کی باگیں تھمائے رکھیں ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں انھیں مرتدین کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ پھر انھیں فارس و روم کی جنگوں کا قائد بنا دیا۔ ان پر اس کا بہت گہرا اثر پڑا۔ ۲۱ یا ۲۲ ہجری میں بستر علالت پر وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر، ج ۱، ص: ۱۲۶۔ الاصابۃ لابن حجر، ج ۲، ص: ۲۵۱۔ اسمی المطالب فی سیرۃ المیر المومنین علی بن ابی طالب للصلابی، ج ۲، ص: ۷۰۵۔ مصنف نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کے بارے میں بہت اچھا اور خوبصورت کلام کیا۔ اسے بغور پڑھنا چاہیے۔)