کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 461
کیا اگر وہ واقعی گناہ ہوتا تو وہ اس گناہ سے اس طرح نکل آتے جس طرح سونا میل کچیل سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ یا جس طرح کپڑا اپنی میل سے صاف ہو جاتا ہے۔ جب انھوں نے اس سے توبہ کروائی تو وہ اس طرح ہو گیا جس طرح کپڑا دھلنے سے صاف ہو جاتا ہے۔[1]
مسروق نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب عثمان قتل کر دئیے گئے تو انھوں نے کہا: ’’تم نے انھیں ایسے کر دیا جیسے کپڑا میل سے صاف شفاف ہو جاتا ہے۔ پھر تم ان کے نزدیک گئے اور تم نے انھیں ذبح کر دیا، جس طرح دنبہ ذبح کیا جاتا ہے۔ کاش! توبہ سے پہلے ایسے ہوتا۔ تو مسروق نے کہا: یہ آپ کا کیا دھرا ہے۔ آپ نے لوگوں کی طرف پیغام لکھ بھیجا تاکہ وہ اس سے بغاوت کر دیں ۔ بقول راوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم جس پر ایمان لانے والے ایمان لاتے ہیں اور جس سے کافر کفر کرتے ہیں ! میں نے اپنی اس جگہ پر بیٹھنے تک سفید کاغذ پر سیاہی سے ان کی طرف کچھ نہیں لکھا۔ اعمش[2] نے کہا: ’’کہتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔‘‘[3]
ب:سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فضائل عثمان رضی اللہ عنہ پر مشتمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث روایت کی ہیں اور وہ معروف و مشہور اور کتب احادیث میں موجود ہیں ۔ ان میں سے ایک ذیل میں درج کی جاتی ہے:
جو عثمان رضی اللہ عنہ اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں نے روایت کی ہے: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے لیے اجازت طلب کی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوڑھنی[4]اوڑھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کو اجازت دے دی اور آپ اپنی پہلی حالت پر لیٹے رہے۔ وہ آئے اپنی ضرورت پوری کی اور چلے گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حالت پر رہتے ہوئے انھیں اجازت دے دی، انھوں نے بھی اپنی حاجت پوری کی اور چلے گئے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو آپ سیدھے ہو کر
[1] سیف بن عمر نے یہ کلام ’’الفتنۃ و وقعۃ الجمل، ص: ۱۱۲‘‘ پر نقل کیا ہے اور طبری نے اپنی تاریخ میں ج ۴، ص: ۴۴۸ پر نقل کیا اور ابن الجوزی نے ’’المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، ج ۵، ص: ۷۸‘‘ میں روایت کیا۔
[2] سلیمان بن مہران اسدی کاہلی ابو محمد الکوفی بنو اسد کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اعمش لقب تھا۔ اپنے وقت کے شیخ الاسلام، امام اور حافظ تھے۔ ۶۱ ہجری میں پیدا ہوئے۔ قراء اور محدثین کے استاد تھے۔ ۱۴۷ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۱، ص: ۲۸۳۔ تہذیب التہذیب لابن حجر، ج ۲، ص: ۴۲۳۔)
[3] الطبقات الکبری لابن سعد، ج ۳، ص: ۸۲۔
[4] المرط: ریشمی، سوتی یا اونی چادر۔ (لسان العرب لابن منظور، ج ۷، ص: ۳۹۹۔)