کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 365
مرویات میں حق و عدل کے پسند کرنے والے اور ہر منصف مزاج کے لیے کافی عبرت آموز سبق ہے ۔ اگر روافض ان حقائق کا انکار نہ کرتے تو ان بدیہی حقائق کو دہرانے کا مطلق کوئی مقصد نہ تھا اور حقیقت حال اللہ سبحانہ و تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے متعلق اہل بیت میں سے بنو عباس کا موقف ۱۔ عباسی حکمران موسیٰ بن عیسیٰ بن موسیٰ[1] (ت ۱۸۳ ہجری) کا فیصلہ: قاضی عیاض نے لکھا ہے : ’’کوفہ میں ایک آدمی نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی، جب موسیٰ بن عیسیٰ بنو عباس کے گورنر تک یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا: اسے کون میرے سامنے پیش کرے گا؟ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: اسے میں پیش کروں گا۔ جب وہ پیش ہوا تو اسے اسی کوڑے لگائے گئے اور اس کا سر مونڈ کر سنگی لگانے والوں کے حوالے کر دیا گیا۔‘‘[2] ۲۔ عباسی خلیفہ متوکل علی اللہ (ت ۲۴۷ ہجری) کا فیصلہ: خلیفہ متوکل علی اللہ[3] نے بغداد کے ایک مشہور آدمی کو کوڑے لگوائے، جس کا نام عیسیٰ بن جعفر بن محمد بن عاصم تھا۔ خلیفہ کے حکم سے اسے ایک ہزار درے انتہائی سختی سے لگائے گئے حتیٰ کہ وہ مر گیا اور اس سزا کا سبب یہ بنا کہ بغداد کی تحصیل شرقی کے قاضی ابو حسان زیادتی کے سامنے سترہ آدمیوں نے گواہی دی کہ یہ شخص سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمر، سیّدہ عائشہ اور سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیتا ہے۔[4]
[1] موسیٰ بن عیسیٰ بن موسیٰ عباسی ہاشمی خلیفہ منصور عباسی اور خلیفہ مہدی عباسی کی طرف سے طویل مدت تک حجاز کا گورنر رہا، پھر مہدی کی طرف سے یمن کا گورنر بنا اور ہارون الرشید کی طرف سے مصر کا گورنر مقرر ہوا۔ ۱۸۳ ہجری میں وفات پائی۔ (النجوم الزاہرۃ لتغری بردی، ج ۲، ص: ۷۸۔ الاعلام للزرکلی، ج ۷، ص: ۳۲۶) [2] الشفاء بتعریف الحقوق المصطفٰی للقاضی عیاض، ج ۲، ص: ۳۰۹۔ تعامل آل البیت من العصبۃ الاحباب مع السّباب للزوجات و الاصحاب لعبد الالہ العباس۔ [3] جعفر بن محمد بن ہارون ابو الفضل بنو عباس میں سے مشہور خلیفہ تھا۔ ۲۰۵ ہجری میں پیدا ہوا اور ۲۳۲ ہجری میں اس کی خلافت کے لیے بیعت ہوئی۔ اپنی رعایا کا محبوب خلیفہ تھا۔ اپنے عہد میں سنت مطہرہ کو اعلانیہ نافذ کیا۔ اپنی مجلس میں کھل کر سنت کی نصرت کی اور خلافت اسلامیہ کے اطراف و اکناف ’’خلق قرآن‘‘ کے مسئلہ میں گرفتار علماء کو رہا کرنے اور ان سے سزائیں ختم کرنے کا حکم جاری کیا اور ’’قرآن مخلوق ہے‘‘ کہنے سے سختی سے منع کر دیا اور اہل سنت کی کھل کر نصرت و حمایت کی۔ ۲۴۷ ہجری میں شہید کر دیا گیا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۲، ص: ۳۰۔ و البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ج ۱۰، ص: ۳۴۹۔) [4] البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ج ۱۴، ص: ۳۷۵۔