کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 364
۳۔ایک طرف تو سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کے گھر میں اپنے بڑے بھائی سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دفنانے کی اجازت طلب کر رہے ہیں اور دوسری طرف سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے یہ ایثار کر رہی ہیں (کہ جو جگہ انھوں نے اپنے لیے مختص کی ہوئی تھی) وہ سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفنانے کے لیے دے رہی ہیں ۔
علی بن حسین بن علی بن ابی طالب زین العابدین[1] رحمہ اللہ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شاگردی کا شرف حاصل کیا اور ان سے متعدد احادیث روایت کیں ، ایک وہ حدیث بھی ہے جو صحیح مسلم میں ہے۔[2]
سیّد ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کتب احادیث سے کوئی ایک ایسا صحیح واقعہ ہمارے علم میں نہیں جس سے پتا چلتا ہو کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اہل بیت میں سے کسی ایک فرد کے متعلق بغض و کینہ کے آثار ہوں بلکہ تمام سیرت و سوانح نگار اس بات پر متفق ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور تمام اہل بیت کے درمیان فطرت انسانی کے مطابق حسین ترین تعلقات و روابط قائم تھے۔[3]
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اہل بیت رضی اللہ عنہم کے ساتھ احسان و اکرام کے تعلقات کے بے شمار شواہد و ثبوت کتب تاریخ و سیرت میں موجود ہیں ۔ بلکہ رافضیوں کی اپنی کتابیں ایسے دلائل سے بھری پڑی ہیں جیسا کہ اگلی فصل میں ان شاء اللہ آ رہا ہے۔
یہ حقیقت یقینی اور صحیح و متواتر احادیث سے ثابت شدہ ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیّدنا علی اور ان کے سب بیٹوں کے درمیان بھرپور محبت بھرے تعلقات قائم رہے اور اگر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ورع ، تقویٰ اور حقوق و واجبات کے متعلق ان کی معرفت اور ان کا لوگوں کو ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق رکھنا اور اہل فضل کے فضائل کے متعلق ان کی معرفت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے ساتھ محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت کا علم نہ ہوتا تو اہل بیت کے فضائل و مناقب سے بھرپور ان کی ان
[1] علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ابو الحسین (علی اصغر) قریشی ہاشمی زین العابدین تھے، ان کی کنیت ابوبکر تھی۔ اپنے وقت کے مشہور عالم، واعظ، ثقہ، مامون، متعدد احادیث کے راوی، نہایت بلند شان و مقام والے تھے۔ واقعہ کربلا میں اپنے باپ کے ساتھ تھے لیکن عین اپنے باپ کی شہادت کے دن انھیں سخت بخار ہو گیا اور وہ اپنے خیمے میں ہی رہ گئے اور مقتل میں نہ جا سکے اور بچ جانے والی عورتوں اور بچوں کے ساتھ صرف وہی ایک مرد زندہ واپس آئے۔ ۹۳ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۴، ص: ۳۸۶۔ تہذیب التہذیب لابن حجر، ج ۴، ص: ۱۹۲۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۴، ص: ۳۸۷۔)
[2] سیر أعلام النبلاء للذہبي، ج ۴، ص: ۳۸۷۔
[3] سیرۃ السیدۃ عائشۃ للندوی، ص: ۲۲۔کچھ تصرف کے ساتھ۔