کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 357
دوسرا مبحث:
سیّدہ عائشہ اور سیّدہ فاطمہ رضی ا للہ عنہما کے درمیان
محبت بھرے روابط
سیّدہ عائشہ اور سیّدہ فاطمہ رضی ا للہ عنہما کے درمیان دائمی محبت، اخلاص، شکر و تقدیر کے تعلقات قائم تھے۔ کسی صحیح روایت میں اشارہ تک نہیں ملتا کہ ان دونوں بزرگ خواتین کے درمیان کبھی بغض و عناد یا نفرت و عداوت کا شائبہ تک پیدا ہوا ہو۔[1] بلکہ تمام سیرت نگاروں اور مورخین اسلام کا اس حقیقت پر اجماع ہے کہ ان دونوں خواتین کے درمیان ہمیشہ باہمی الفت، پختہ محبت اور سگے رشتہ داروں کی طرح سب سے عمدہ تعلقات قائم رہے۔ اس دعویٰ کے بے شمار دلائل ہیں ان میں سے وہ روایت جو سیّدہ عائشہ بنت طلحہ نے ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بیٹھنے کی حالت کی مشابہت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔[2]
ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی متعدد خوبیاں بیان کیں جن سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت کا بخوبی پتا چلتا ہے۔ جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیئت کذائی، حسن اخلاق اور سیرت و کردار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتی تھیں ۔ نیز سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حق گوئی کی بھی گواہی دی۔ عبداللہ بن زبیر رضی ا للہ عنہما نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا تو فرمایا:
((مَا رَاَیْتُ اَحَدًا کَانَ اَصْدَقُ لَہْجَۃً مِّنْہَا، اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ الَّذِیْ وَلَدَہَا۔))[3]
[1] الدل: انسان کی وقار و سکون کی وہ حالت جو آنے والے ہر کسی کو نظر آتی ہے۔ (تہذیب اللغۃ الازہری، ج ۱۴، ص: ۴۸۔ الصحاح للجوہری، ج ۴، ص: ۱۶۹۹۔ لسان العرب لابن منظور، ج ۱۱، ص: ۲۴۸۔ المعجم الوسیط، ج ۱، ص: ۲۹۴۔
[2] سنن ترمذی، حدیث: ۳۸۷۲۔ سنن ابی داود، حدیث: ۵۲۱۷۔ سنن کبری للنسائی، ج ۵، ص ۹۶، حدیث: ۸۳۶۹۔ الادب المفرد لامام بخاری، ص: ۳۵۵۔ المستدرک للحاکم: ۴۷۳۲۔ اسے البانی نے صحیح سنن ترمذی، حدیث: ۳۸۷۲ پر صحیح کہا۔
[3] اسے حاکم نے روایت کیا، ج ۳، ص: ۱۷۵ اور ابن عبدالبر نے ’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ج ۴، ص: ۱۸۹۶‘‘ میں روایت کیا ۔ حاکم نے کہا: یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن دینار نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی اس نے کہا: میں نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حق گو اس کے باپ کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیکھا۔