کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 354
چنانچہ ابن الاثیر الجزری[1]رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
’’بصرہ کی جس حویلی میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قیام تھا۔ دو آدمی اس حویلی کے دروازے پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے کہ ہماری نافرمانیوں کی ہماری ماں کو کیا خوب جزا ملی ہے؟! اور دوسرے نے کہا: اے اماں جان آپ اپنی غلطیوں سے توبہ کر لیں ۔
یہ باتیں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچیں تو انھوں نے قعقاع بن عمرو کو حویلی کے دروازے کی طرف بھیج کر عینی شاہدین کے ذریعے ایسی گفتگو کرنے والوں کا پتہ معلوم کرانے کے لیے بھیجا، چنانچہ لوگوں نے بتایا کہ وہ عبداللہ کے دونوں بیٹے عجلان اور سعد تھے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو سو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا اور ان دونوں کے کپڑے اتروا کر انھیں گھمانے کا حکم دیا۔‘‘[2]
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد لوگوں سے کہتیں کہ وہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان باہمی احترام و تکریم کے مثالی روابط تھے۔[3]
اس حقیقت کا اعتراف شیعہ مصنّفین نے بھی کیا ہے۔[4]
ابن ابی شیبہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی کہ ’’جنگ جمل کے دن عبداللہ بن بدیل سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کجاوے کی طرف گیا اور کہا: اے ام المومنین میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا آپ جانتی ہیں سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن میں آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہا کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں اب آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لوں ، چنانچہ اللہ کی قسم نہ وہ بدلے اور نہ انھوں نے کچھ تبدیل کیا۔[5]
[1] یہ علی بن محمد بن محمد ابو الحسین جزری ۵۵۵ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے مشہور محدث، ادیب، علامہ اور ماہر انساب تھے۔ اسلامی فضائل و بلند اخلاق و تواضع سے مرصع تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’الکامل‘‘ اور ’’اسد الغابۃ‘‘ ہیں ۔ ۶۳۰ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۲، ص: ۳۵۳۔)
[2] الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، ج ۲، ص: ۶۱۴۔ نہایۃ الارب للنویری، ج ۲۰، ص: ۵۰۔
[3] فتح الباری لابن حجر، ج ۱۳، ص: ۲۹۔۴۸۔
[4] کتاب الجمل للمفید، ص: ۷۳۔ الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی، ص: ۲۳۶۔۲۴۰۔
[5] اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا، ج ۱۵، ص: ۲۸۳۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری، ج ۱۳، ص: ۵۷میں اس کی سند کو جید کہا۔