کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 351
ایک بار انھوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے ساتھ میں اپنے قرابت داروں سے زیادہ محبت کرتا ہوں ۔[1] سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’لوگو! تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق ان کے اہل بیت کا احترام کرو۔‘‘[2] سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت اور احترام اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ تمام امور میں علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ لینا ضروری سمجھتے تھے، بلکہ ان دونوں کے درمیان اسی محبت اور باہمی احترام نے آپس میں سسرالی رشتہ تک قائم کرا دیا۔ نیز سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سیّدنا حسن اور سیّدنا حسین رضی ا للہ عنہما کے ساتھ اپنے قرابت داروں سے بڑھ کر محبت کرتے تھے اور عطیات کی تقسیم کے وقت انھیں دوسروں پر ترجیح دیتے تھے۔ حتیٰ کہ علامہ دار قطنی[3] نے ایک مستقل کتاب ’’ثناء الصحابۃ علی القرابۃ و ثناء القرابۃ علی الصحابۃ‘‘[4] کے نام سے تصنیف کی۔ اسی روشن کردار اور راستے پر ہماری امی جان سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص نیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع میں اپنے رب سے جا ملیں۔[5] ٭٭٭
[1] صحیح بخاری، حدیث: ۳۷۱۲۔ صحیح مسلم، حدیث: ۱۷۵۹۔ [2] صحیح بخاری، حدیث: ۳۷۱۳۔ [3] علی بن عمر بن احمد ابو الحسن دار قطنی ۳۰۶ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے شیخ الاسلام، امام الحدیث، حافظ اور فقیہ تھے۔ تصنیف کے میدان میں مشہور علمی شہ پارے تخلیق کیے ان کی مشہور تصنیفات ’’کتاب العلل‘‘ اور ’’سنن دار قطنی‘‘ ہیں ۔ ۳۸۵ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۶، ص: ۴۴۹۔ وفیات الاعیان لابن خلکان، ج ۳، ص: ۲۹۷۔) [4] آل رسول اللہ صلي اللّٰه عليه وسلم و اولیاء ہ و موقف اہل السنۃ و الشیعۃ من عقائدہم و فضائلہم و فقہہم و فقہائہم لمحمد بن عبدالرحمن بن القاسم، ص: ۶۷۔ [5] امنا عائشۃ ملکۃ العفاف لنبیل الزیانی (غیر مطبوعہ بحث)۔