کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 344
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے یہی توجیہ نقل کی۔[1] اسی طرح حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی علماء کے دونوں فریقوں کے اقوال کی ایسی ہی توجیہ بیان کی ہے۔[2] شیخ ابن سعدی کی رائے میں اس مسئلے کی یہی تحقیق راجح ہے۔[3] ٭٭٭
[1] جلاء الافہام لابن القیم، ص: ۲۳۵۔۲۳۴۔ [2] البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ج ۴، ص: ۳۲۱۔ [3] التنبیہات اللطیفہ فیما احتوت علیہ العقیدۃ الواسطیۃ من المباحث المنیفہ لابن سعدی، ص: ۱۱۹۔