کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 342
توقف بہتر ہے۔ اس رائے کی طرف الکیاطبری[1] کا میلان ہے۔[2] امام ذہبی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔[3] اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی یہی رائے پسند کی۔[4] جو حقیقت بظاہر معلوم ہوتی ہے ۔و اللہ اعلم۔ وہ یہ ہے کہ ان مصادر و مآخذ پر غور کرنا چاہیے جن سے علمائے امت سیّدہ عائشہ اور سیّدہ خدیجہ رضی ا للہ عنہما کے درمیان مفاضلہ قائم کرتے ہیں ۔ ۱۔یہ کہا جاتا ہے کہ سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت، آپ کی اوّلین تصدیق، آپ کی ہمدردی اور آپ کی سب اولاد ان کے بطن سے ہونے کے لحاظ سے افضل ہیں اور جو حدیث مسند احمد[5] میں موجود ہے اس حدیث سے یہی مفہوم نکلتا ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یاد کرتے تو ان کی بہت ہی تعریف کرتے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک دن مجھے بہت غیرت آئی تو میں نے کہہ دیا: آپ اتنی کثرت سے اس عورت کو جس کے (دانت گر کر ) صرف سرخ سرخ مسوڑھے رہ گئے تھے ،کیوں یاد کرتے ہیں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نعم البدل دے دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اَبْدَلَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا مِنْہَا، قَدْ آمَنَتْ بِیْ اِذْ کَفَرَ بِیَ النَّاسُ، وَ صَدَّقَتْنِیْ اِذْ کَذَّبَنِیَ النَّاسُ، وَ وَاسَتْنِیْ بِمَالِہْا اِذْ حَرَّمَنِیَ النَّاسُ وَ رَزَقَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَلَدَہَا اِذْ حَرَّمَنِیْ اَوْلَادَ النِّسَاء)) [6]
[1] الکیاطبری: علی بن محمد بن علی ابو الحسن طبری الہراسی، شیخ الشافعیۃ، علامہ، مفسر اور ذکی و فصیح تھے ،ان کی مشہور تصنیف ’’احکام القرآن‘‘ہے۔ ۵۰۴ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۹، ص: ۳۵۰۔ طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبہ، ج ۱، ص: ۲۸۸۔) [2] الاجابۃ لا یراد .... للزرکشی، ص: ۶۳۔ [3] سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲، ص: ۱۴۰۔ [4] البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، ج ۴، ص: ۳۲۲۔ [5] احمد بن محمد بن حنبل ابو عبداللہ شیبانی سچے امام ہیں اور حقیقی شیخ الاسلام ہیں ۔ اس امت کے حبر ہیں ۔ ’’قرآن مخلوق نہیں ہے۔‘‘ کے مسئلہ میں بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہوئے۔ ۱۶۴ ہجری میں پیدا ہوئے۔ وہ چار مشہور ائمہ مذاہب میں سے ایک ہیں ۔ وہ سنت، ورع اور زہد میں بھی امام ہیں ۔ ان کی مشہور تصانیف ’’المسند‘‘ اور ’’الزہد‘‘ ہیں ۔ ۲۴۱ ہجری میں وفات پائی۔ (مناقب الامام احمد لابن الجوزی۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۱، ص: ۱۷۷) [6] مسند احمد، ج ۶، ص ۱۱۷، حدیث: ۲۴۹۰۸۔ المعجم للطبرانی، ج ۲۳، ص ۱۳، حدیث: ۱۸۹۷۷۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے (البدایۃ و النہایۃ، ج ۳، ص: ۱۲۶) میں کہا کہ اس کی سند قابل قبول ہے اور شوکانی نے (در السحابۃ، ص: ۲۴۹) پر اس کی سند کو حسن کہا جبکہ اس کی تمام تفصیلات کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۶۲۲۴) میں ضعیف کہا ہے ۔