کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 341
اسی رائے کو فقہ شافعی کے متبعین سے قاضی اور متولی[1] اور حافظ ذہبی نے بھی ایک جگہ اسے تسلیم کیا ہے۔[2] اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی[3] اور علامہ عینی نے[4] بلکہ ابن عربی[5] نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس میں کوئی اختلاف ہی نہیں ۔[6]
لیکن یہ قول غیر صحیح ہے اور اختلاف موجود ہے اور کچھ علماء نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر فضیلت دی ہے۔
آمدی نے ’’ابکار الافکار‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ اہل سنت کا مذہب ہے۔[7] اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ رائے اکثر اہل سنت کی ہے۔[8]
اس رائے کے لیے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے:
’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام عورتوں سے اس طرح افضل ہے جس طرح تمام کھانوں سے ثرید افضل ہے۔‘‘[9]
اور اس طرح کی متعدد احادیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے اور کچھ علماء کی رائے میں اس مسئلہ میں
[1] عبدالرحمن بن مامون بن علی ابو سعد متولی۔ علامہ، شیخ الشافعیہ، فقہ اور اصول فقہ اور مقارنہ بین المسالک میں مہارت حاصل کی عالم باعمل، حسن السیرۃ اور محقق مناظر کے طور پر مشہور ہوئے۔ مدرسہ نظامیہ میں درس و تدریس میں مصروف رہے۔ ان کی مشہور تصانیف ’’التتمہ‘‘ اور ’’مختصر فی الفرائض‘‘ ہیں ۔ ۴۷۸ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۸، ص: ۵۸۵۔ شذرات الذہب لابن العماد، ج ۳، ص: ۳۵۷۔) کا اختیار ہے۔ (غایۃ السول فی خصائص الرسول لابن الملقن: ۲۳۰۔)
[2] سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲، ص: ۱۴۰۔
[3] فتح الباری لابن حجر، ج ۷، ص: ۱۳۹۔
[4] عمدۃ القاری للعینی، ج ۱۵، ص: ۳۰۹۔
[5] محمد بن عبداللہ بن محمد ابوبکر اشبیلی مالکی ۴۶۸ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اہل اندلس کے بہت بڑے عالم، امام، حافظ اور قاضی تھے۔ نہایت ذہین و فطین تھے۔ اشبیلیۃ کے قاضی بنے تو ان کی عادلانہ کارکردگی کی وجہ سے لوگوں نے ان کے کردار کی تعریف کی۔ اپنے فرائض نہایت عمدگی سے ادا کیے۔ ان کی مشہور تصانیف ’’احکام القرآن‘‘ اور ’’عارضۃ الاحوذی‘‘ ہیں ۔ ۵۴۳ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۰، ص: ۱۹۷۔ شذرات الذہب لابن العماد، ج ۴، ص: ۱۴۰)
[6] فتح الباری لابن حجر، ج ۷، ص: ۱۳۹۔
[7] الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی، ص: ۶۳۔
[8] منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ، ج ۴، ص: ۳۰۲۔
[9] اس کی تخریج گزر چکی ہے۔