کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 340
دوسری فصل:
سیّدہ رضی اللہ عنہا اور دیگر سیّدات خانہ نبوی کے درمیان
تفاضل و مفاضلہ
پہلا مبحث:.... سیّدہ عائشہ اور سیّدہ خدیجہ رضی ا للہ عنہما کے درمیان مفاضلہ
اس فصل کے عناوین پر بحث کافی طویل ہے لیکن یہاں صرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ درج ذیل نکات کی روشنی میں مذکورہ بحث کو مکمل کیا جائے گا۔
۱۔اس امت کی افضل عورتیں : سیّدہ خدیجہ، سیّدہ عائشہ اور سیّدہ فاطمہ علیہ السلام ہیں ۔[1]
۲۔تفصیل کے بغیر تفضیل ممکن نہیں ۔[2]
۳۔کسی کو اس کے مقابل سے افضل کہنا بہت مشکل موضوع ہے۔[3]
سیّدہ خدیجہ اور سیّدہ عائشہ رضی ا للہ عنہما کے درمیان مفاضلہ کے مؤقف میں علماء کا اختلاف مشہور ہے۔ کچھ علماء نے سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے افضل کہا ہے۔ وہ سیّدنا ابن عباس رضی ا للہ عنہما سے مروی حدیث صحیح سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خواتین اہل جنت سے افضل سیّدہ خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد، آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون اور مریم بنت عمران علیہ السلام ہیں ۔‘‘[4]
[1] مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ، ج ۴، ص: ۳۹۴۔
[2] بدائع الفوائد لابن القیم، ج ۳، ص: ۱۶۱۔
[3] طبقات الشافعیۃ الکبرٰی للسبکی، ج ۱۰، ص: ۲۲۳۔
[4] مسند احمد، ج ۱، ص ۳۱۶، حدیث: ۲۹۰۳۔ و السنن الکبری للنسائی، ج ۵، ص ۹۴، حدیث: ۸۳۶۴۔ مسند ابی یعلی، ج ۵، ص ۱۱۰، حدیث: ۲۷۲۲۔ معجم للطبرانی، ج ۱۱، ص ۳۳۶، حدیث: ۱۱۹۲۸۔ صحیح ابن حبان، ج ۱۵، ص ۴۷۰، حدیث: ۷۰۱۰۔ مستدرک حاکم، ج ۲، ص: ۵۳۹۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے اور علامہ نووی رحمہ اللہ نے (تہذیب الاسماء و اللغات، ج ۲، ص: ۳۴۱) میں اس کی سند کو حسن کہا اور ہیثمی رحمہ اللہ نے (مجمع الزوائد، ج ۹، ص: ۲۲۶) میں کہا اس حدیث کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور اس کی سند کو ابن حجر نے (فتح الباری، ج ۶، ص: ۵۴۳) میں اور احمد شاکر نے ’’المسند‘‘ کی تحقیق کرتے ہوئے (ج ۴، ص: ۲۳۲) میں اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے (صحیح الجامع، حدیث: ۱۱۳۵) میں صحیح کہا اور وادعی رحمہ اللہ نے (الصحیح المسند، حدیث: ۵۹۰) میں صحیح کہا ہے۔