کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 339
۴۳۔ ابن عثیمین[1] رحمہ اللہ (ت: ۱۴۲۱ ہجری): فرماتے ہیں : ’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اَن گنت خصوصیات کی مالک تھیں ۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری لمحات میں حسن معاشرت کی مثال قائم کی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں منافقوں کے لگائے گئے بہتان سے بری قرار دیا اور قیامت تک پڑھی جانے والی آیات ان کی شان میں نازل کیں اور یہ کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی و سنن میں بہت کچھ یاد کیا اور اسے سب امت تک من و عن پہنچایا، جو کسی اور عورت کے نصیب میں نہیں ۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری سے شادی نہیں کی گویا سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خانگی تربیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پائی۔‘‘[2] نیز انھوں نے حدیث ’’عائشہ عورتوں سے اس طرح افضل ہیں جس طرح کھانوں میں ثرید افضل ہے .... الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھا: ’’یہ اس کی دلیل ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلق طور پر تمام عورتوں سے افضل ہیں ۔‘‘[3] انھوں نے یہ بھی فرمایا: ’’صدیقہ کہلانے کے اس لیے حق دار ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق میں کمال حاصل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات میں کمال صدق دکھایا اور واقعہ افک میں آنے والی مصیبت کے سامنے کمال صبر کا مظاہرہ کیا۔ جو تمام اہل اسلام کے لیے ان کے صدق کی دلیل ہے اور ان کے اللہ تعالیٰ پر سچے ایمان کا ثبوت ہے۔ چنانچہ جب ان کی براء ت پر مشتمل وحی نازل ہوئی تو انھوں نے فرمایا: ’’میں اللہ کے سوا کسی کی تعریف نہیں کروں گی۔‘‘ ان کا یہ قول ان کے کمال ایمان و صدق کی دلیل ہے۔‘‘[4]
[1] محمد بن صالح بن عثیمین ابو عبداللہ تمیمی حنبلی، عالم، فقیہ، اصولی، شیخ التفسیر و العقیدۃ اور تمام علوم شرعیہ میں کافی رسوخ رکھتے تھے۔ ۱۳۴۷ ہجری میں پیدا ہوئے۔ زاہد، منکسر المزاج اور صاحب ورع و تقویٰ تھے۔ سعودی عرب میں کبار علماء و مشائخ میں شامل تھے۔ ان کی تصنیفات ’’ایسر التفاسیر لکلام الرحمن‘‘، ’’الشرح الممتع‘‘ اور ’’القول المفید علی کتاب التوحید‘‘ ہیں ۔ ۱۴۲۱ ہجری میں وفات پائی۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)) (الدر الثمین فی ترجمۃ ابن عثیمین لعصام المری۔) [2] مجموع الفتاوٰی و رسائل عثیمین، ج ۴، ص: ۳۰۸۔ [3] حوالہ سابقہ، ج ۸، ص: ۶۱۴۔ [4] مجموع فتاوٰی و رسائل العثیمین، ج ۸، ص: ۶۱۳۔