کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 338
۴۱۔ سیّد قطب شہید[1] رحمہ اللہ (ت: ۱۳۸۵ ہجری): فرماتے ہیں : ’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طیبہ، طاہرہ ہیں ۔ یہی وہ ہستی ہیجن کے دل کے روشن ہونے ، ہر عیب سے پاک ہونے اور ان کے تصورات کے نظیف ہونے کی گواہی قرآن نے دی۔ یہی ہیں وہ جن پر اس چیز کا بہتان لگایا جاتا ہے جو انسان کاسب سے بڑا عزت و فخر والا مقام ہے۔ ان کے حسب نسب پر بہتان لگایا جاتا ہے، حالانکہ وہ صدیق کی بیٹی ہیں ۔ معزز و پاک گھرانے میں پلی بڑھی ہیں ۔ ان کی امانت پر بہتان لگایا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں جو بنو ہاشم میں چوٹی کا خاندان ہے۔ ان کی وفا پر بہتان لگایا جاتا ہے، حالانکہ وہ خاتم الانبیاء و سیّد المرسلین کی محبوب ترین بیوی ہے .... پھر ان کے ایمان پر بہتان لگایا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنی زندگی کے پہلے دن سے جس دن سے انھوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اسلام اور اہل اسلام کی گود میں پرورش پائی، نیز وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں ۔‘‘[2] ۴۲۔ محمد طاہر بن عاشور[3]رحمہ اللہ (ت: ۱۳۹۳ ہجری): فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے ایسی منصوص آیات کے ذریعے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہتان سے براء ت کا بندوبست کیا ہے کہ یہ آیات جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئیں متواتر پڑھی جاتی رہیں گی۔‘‘[4]
[1] سیّد قطب بن ابراہیم مصر کے بہت بڑے اسلامی مفکر تھے۔ ۱۳۲۴ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بہت بڑے ادیب، دانشوری اور مفسر تھے۔ مصری حکمران جمال عبدالناصر نے ایک عرصہ تک انھیں جیل میں رکھا اور جیل میں ہی ظلماً شہید کر دئیے گئے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’تفسیر فی ظلال القرآن‘‘ اور ’’معالم فی الطریق‘‘ ہیں ۔ ۱۳۸۷ ہجری میں شہید ہوئے۔ (عملاق الفکر الاسلامی لعبداللہ عزام۔ الاعلام للزرکلی، ج ۳، ص: ۱۴۸۔) [2] تفسیر فی ظلال القرآن سیّد قطب، ج ۴، ص: ۲۴۹۸۔ [3] محمد بن محمد بن عاشور ابو عبداللہ تیونسی۔ ۱۲۹۶ ہجری میں پیدا ہوئے۔ تیونس میں مالکی فقہ کے فقیہوں کے رئیس (سربراہ) تھے اور جامع مسجد زیتونہ کے امام و خطیب تھے اور دمشق و قاہرہ میں لجنۃ (کمیٹی) علمائے عرب کے خاص رکن تھے۔ ان کی مشہور تصنیف تفسیر ’’التحریر و التنویر‘‘ ہے۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۶، ص: ۱۷۴۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا، ج ۶، ص: ۳۷۸۔) ۱۳۹۳ ہجری میں وفات پائی۔ [4] التحریر و التنویر لابن عاشور، ج ۱۸، ص: ۱۸۳۔