کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 337
فرماتے ہیں :
’’بے شک سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ثناء اور دعا کی مستحق ہیں اس لیے کہ پاک دامن، عفت مآب ہیں ۔ اور اس لیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی ہے تمام اہل ایمان کی ماں ہیں ۔ اس کا اکرام و احترام سب امت پر واجب ہے۔ جو ان کے متعلق بدگوئی کرے گا، گویا اس نے حقیقت کو بالکل ہی الٹ دیا۔‘‘[1]
۳۹۔ محمد صدیق خان القنوجی[2] رحمہ اللہ (ت: ۱۳۰۷ ہجری):
فرماتے ہیں :
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طیب تھے تو وہ اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ وہ طیبہ عورت سے شادی کریں اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طیبہ تھیں وہ اس بات کی حق دار تھیں کہ ان سے کوئی طیب مرد شادی کرے۔‘‘[3]
۴۰۔ عبدالرحمن سعدی رحمہ اللہ (ت: ۱۳۷۶ ہجری):
آپ نے اپنی تفسیر میں فرمایا:
’’تو اس قصہ بہتان کی بنیاد پر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانا دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگانا ہے اور اس بہتان کے ذریعے منافقوں کا مقصد بھی یہی تھا۔ ان کا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ طیبہ و طاہرہ ہیں اور جو بہتان ان پر لگایا گیا ہے اس سے وہ مبرأ ہیں ۔ جب وہ ان اوصاف کا مجموعہ ہے کہ سب عورتوں سے سچی ، سب سے افضل ، سب سے بڑی عالمہ ، سب سے بڑی طیبہ اور رب العالمین کے رسول کی محبوبہ بھی ہیں ، تو پھر یہ قبیح عیب ان پر کیوں لگایا جاتا ہے؟؟‘‘[4]
[1] تفسیر المظہری لثناء اللہ المظہری، ج ۶، ص: ۴۷۳۔
[2] محمد صدیق خان بن حسین بن علی ابو طیب بخاری ہندی ریاست بھوپال میں بہت بڑے محدث تھے۔ ۱۲۴۸ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے مجدد تھے۔ ریاست بھوپال ان کا وطن تھا۔ وہاں کی ملکہ سے شادی کی۔ ان کی مشہور تصنیف ’’ابجد العلوم‘‘ ہے۔ ۱۳۰۷ ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۶، ص: ۱۶۷۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا، ج ۶، ص: ۳۸۸۔)
[3] فتح البیان فی مقاصد القرآن للقنوجی، ج ۹، ص: ۱۹۵۔
[4] تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیر الکلام المنان للسعدی، ص: ۳۵۲۔