کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 336
’’سب سے سخت آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر اولیاء الرحمن پر، پھر جس قدر کوئی دین پر کاربند ہو اسی قدر اس پر سخت آزمائش آتی ہے۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی قَدْرِ دِیْنِہٖ))[1] ’’ہر آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے خاص محبوب بندوں کے معاملے میں بہت ہی غیور ہے۔‘‘ ۳۷۔ ابو الحسن السندی[2] رحمہ اللہ (ت: ۱۱۳۸ ہجری): آپ اس حدیث جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی جب میں اپنی کسی بیوی کے لحاف میں ہوتا ہوں سوائے عائشہ کے .... الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں : ’’ان کے فخر و شرف کے لیے یہی کافی ہے اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی عظمت و تکریم کے تابع ہے۔‘‘[3] نیز وہ اس حدیث کہ ’’جس طرح کھانوں سے ثرید افضل ہے .... الحدیث۔‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ان کے حسن خلق، فصاحت لسان، رائے کی پختگی کی وجہ سے ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فضل کے بیان کے لیے مستقل کلام کیا ہے اور انھیں ان سے پہلے مذکورہ دو عورتوں (شاید خدیجہ اور فاطمہ، مریم اور خدیجہ یا آسیہ علیہ السلام ) پر معطوف نہیں کیا۔‘‘[4] ۳۸۔ ثناء اللہ المظہری صوفی[5] رحمہ اللہ (ت: ۱۲۲۵ ہجری):
[1] روح البیان لاسماعیل حقی، ج ۶، ص: ۱۲۹۔ [2] محمد بن عبدالہادی ابو الحسن السندی حنفی، حافظ، مفسر، فقیہ، علوم نحو، معانی، اصول کا ماہر تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے مشہور صحاح ستہ پر حاشیہ جات ہیں ۔ ۱۱۳۸ ہجری کے قریب وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۶، ص: ۲۵۳۔ معجم المؤلفین لرضا کحالۃ، ج ۱۰، ص: ۲۶۲۔) [3] حاشیۃ السندہ علی النسائی، ج ۷، ص: ۶۸۔ [4] حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجۃ، ج ۲، ص: ۳۰۶۔ [5] قاضی ثناء اللہ ہندی، فانی، نقشبندی، حنفی، عثمانی المظہری، عالم، محدث تھے۔ دہلی گئے اور شاہ ولی اللہ دہلوی سے علم حدیث حاصل کیا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’تفسیر المظہری‘‘ اور ’’مالا بد منہ‘‘ ہیں جو فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہے۔ ۱۲۲۵ ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام بمن فی تاریخ الہند من الاعلام لعبد الحی الحسنی، ج ۷، ص: ۹۴۲۔)