کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 334
منتخب کی۔‘‘[1]
۳۳۔ السیوطی رحمہ اللہ (ت: ۹۱۱ ہجری) :
آپ نے اس حدیث کہ ’’بے شک عائشہ سب عورتوں سے اس طرح افضل ہے جس طرح سب کھانوں سے ’’ثرید‘‘ افضل ہے .... الحدیث‘‘ کی شرح کرتے ہوئے فرمایا:
’’ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ تمام عورتوں سے افضل سیّدہ مریم رحمہ اللہ اور سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور تمام امہات المومنین سے افضل سیّدہ خدیجہ اور سیّدہ عائشہ رضی ا للہ عنہما تھیں ۔‘‘[2]
۳۴۔ صفی الدین خزرجی[3] رحمہ اللہ :
فرماتے ہیں :
’’عائشہ بنت ابی بکر الصدیق رضی ا للہ عنہما التیمیہام عبداللہ فقیہہ، ام المومنین، الربانیہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ ہیں ۔‘‘[4]
۳۵۔ ملا علی القاری[5] رحمہ اللہ (ت: ۱۰۱۴ ہجری):
آپ نے اس حدیث کہ ’’عائشہ عورتوں سے اس طرح افضل ہے جس طرح کھانوں سے ثرید افضل ہے.... الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھا ہے:
’’حدیث کے الفاظ سے ظاہری معنی یہی نکلتا ہے کہ وہ تمام عورتوں سے افضل ہیں ۔ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا میں کمالات علمیہ و عملیہ کی جامعیت ہے اور انھیں ثرید سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کے ہاں ثرید سب کھانوں سے افضل ہے۔ وہ گوشت، روٹی اور شوربے کو ملا کر بنایا جاتا ہے اور کوئی غذا اس کی ہم پلہ نہیں اور اس میں غذائیت، لذت، قوت، کھانے کی سہولت،
[1] نظم الدرر فی تناسب الآیات و السور للبقاعی، ج ۱۳، ص: ۲۷۶۔
[2] مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح للملا علی القاری، ج ۹، ص: ۳۹۹۴۔
[3] احمد بن عبداللہ بن ابی الخیر صفی الدین خزرجی۔ ۹۰۰ ہجری میں پیدا ہوئے ان کی مشہور تصنیف ’’خلاصۃ تذہیب الکمال فی اسماء الرجال‘‘ ہے۔ ۹۶۳ ہجری کے بعد وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۱، ص: ۱۶۰۔)
[4] خلاصۃ تذہیب، تہذیب الکمال لصفی الدین الخزرجی، ص: ۴۹۳۔
[5] یہ علی بن سلطان بن محمد نور الدین الہروی القاری الحنفی ہیں ۔ اپنے زمانے کے فقیہ اور علامہ ذخار تھے۔ تحقیق و تنقیح ان کا امتیاز ہے۔ ان کی تصنیفات میں سے مشہور ’’الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ‘‘ اور ’’المرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ ہیں ۔ ۱۰۱۴ ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۵، ص: ۱۲۔ معجم المؤلفین للرضا لکحالۃ، ج ۷، ص: ۱۰۰۔)