کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 332
آسمانوں سے اوپر سے وحی نازل ہوئی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تقریباً پچاس سال تک زندہ رہیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہوئے قرآن و حدیث کو لوگوں تک پوری امانت سے پہنچاتی رہیں اور تاحیات مسلمانوں کو فتویٰ دیتی رہیں اور باہمی اختلاف رکھنے والوں کے درمیان صلح کراتی رہیں ۔ وہ تمام امہات المومنین سے زیادہ معزز ہیں ۔ یہاں تک کہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں اور بیٹیوں کی ماں ہیں ۔ یہ قول علماء متقدمین و متاخرین کا ہے اور اس مسئلہ میں احسن توقف ہے۔‘‘[1] ۲۸۔ ابو حفص سراج الدین نعمانی[2]رحمہ اللہ : فرماتے ہیں : ’’آپ کے لیے غور کا مقام ہے کہ جب یہودیوں نے مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بہتان عظیم کہا اور جب منافقوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھی بہتان عظیم کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ﴾ (النور: ۱۶) ’’تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ روافض جو کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگاتے ہیں وہ ان یہودیوں جیسے ہیں جنھوں نے مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا تھا۔‘‘[3] ۲۹۔ العراقی[4] رحمہ اللہ (ت: ۸۰۶ ہجری): فرماتے ہیں :
[1] البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ج ۲، ص: ۴۳۱۔ [2] عمر بن علی بن عادل ابو حفص نعمانی دمشقی حنبلی، مفسر قرآن تھے۔ ان کی مشہور کتاب ’’داللباب فی علوم الکتاب‘‘ ہے۔ ۸۸۰ ہجری کے بعد وفات پائی۔ (الأعلام للزرکلی، ج ۵، ص: ۵۸۔ معجم المؤلفین للرضا الکحالۃ، ج ۷، ص: ۳۰۰۔ [3] اللباب فی علوم الکتاب لابی حفص نعمانی، ج ۷، ص: ۱۱۱۔ [4] عبدالرحیم بن حسین بن عبدالرحمن ابو الفضل مصری، شافعی۔ ۷۲۵ ہجری میں پیدا ہوئے۔ محنت و کوشش اور اللہ کی توفیق سے اپنے وقت کے حافظ حدیث، حجت تھے۔ مدرسہ کاملیہ فاضلیہ میں پڑھاتے رہے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’المغنی عن حمل الاسفار‘‘ ہے۔ ۸۰۶ ہجری میں وفات پائی۔ (انباء الغمر لابن حجر، ج ۲، ص: ۲۷۵۔ ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن، ص: ۵۔