کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 329
۲۰۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (ت: ۷۲۸ ہجری): آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اہل السنہ کے نزدیک سب اہل بدر اور اسی طرح سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت تمام امہات المومنین جنتی ہیں ۔‘‘[1] ۲۱۔ ابن سیّد الناس[2] رحمہ اللہ (ت: ۷۳۴ ہجری): آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل بے کنار ہیں اور ان کے مناقب بے شمار ہیں ۔‘‘[3] ۲۲۔ ابن جزی رحمہ اللہ (ت: ۷۴۱ ہجری): آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں قرآن نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے واقعہ افک سے ان کی براء ت کا اعلان کیا۔ ان آیات میں حد درجہ ان کے ساتھ قدرت کی عنایات اور اہتمام کا تذکرہ ہے۔ ان آیات میں آپ رضی اللہ عنہا کی تکریم کی علامات بھی ہیں اور جنھوں نے آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا، ان کی شدید مذمت بھی ہے۔‘‘[4] ۲۳۔ الذہبی رحمہ اللہ (ت: ۷۴۸ ہجری): آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے شادی نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ شدید محبت کرتے تھے، جس کا اظہار بھی ہوتا رہتا تھا۔ اور آپ علیہ السلام صرف پاکیزہ چیزوں سے ہی محبت کرتے تھے .... اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کی محبت
[1] منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمۃ، ج ۴، ص: ۱۰۔ ۳۰۹۔ [2] محمد بن محمد بن محمد ابو الفتح مصری شافعی۔ ۶۷۱ ہجری میں پیدا ہوئے۔ علوم مختلفہ مثلاً حدیث، فقہ، سیر میں مہارت تامہ حاصل کی۔ اپنے وقت کے امام، علامہ، حافظ اور ادیب تھے۔ سلفی العقیدۃ تھے۔ جامع صالح میں دار الحدیث کے مہتمم بنے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’عیون الاثر‘‘ ہے۔ ۷۳۴ ہجری میں وفات پائی۔ (ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن، ص: ۹۔ شذرات الذہب لابن العماد، ج ۶، ص: ۱۰۸۔) [3] عیون الاثر لابن سیّد الناس، ج ۲، ص: ۳۶۸۔ [4] التسہیل لعلوم التنزیل لابن جزی، ج ۲، ص: ۶۲۔