کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 327
۱۵۔ ابن عساکر[1] رحمہ اللہ ( ۶۲۰ ہجری): آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’تنگ دستی کے باوجود ازواج مطہرات رضی ا للہ عنہن کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کرنا ان کی بہت بڑی فضیلت اور سعادت مندی کی دلیل ہے اور ان سب پر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقدم کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ دیگر سب کی بجائے شدید والہانہ محبت کی دلیل ہے۔‘‘[2] ۱۶۔ ابن الاثیر رحمہ اللہ (ت: ۶۳۰): آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اگر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے واقعہ افک کے علاوہ کوئی اور فضیلت نہ ہوتی تو ان کے لیے اتنا فضل بزرگی اور علو مرتبت کافی تھا ۔ کیونکہ اس واقعہ میں ان کی شان میں قیامت تک پڑھا جانے والا قرآن نازل ہوا۔‘‘[3] ۱۷۔ الآمدی[4] رحمہ اللہ (ت: ۶۳۱ ہجری): آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اہل سنت اور اہل الحدیث کا اتفاق ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام جہانوں کی عورتوں سے افضل ہیں ۔‘‘[5]
[1] عبدالرحمن بن محمد بن حسن، ابو منصور دمشقی۔ ۵۵۰ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بڑے امام، شیخ مذہب شافعی، عابد اور صاحب ورع تھے۔ جاروخیہ اور صلاحیہ نامی شہروں میں درس حدیث دیتے رہے اور عذراویہ میں سب سے پہلے انھوں نے تدریس کی۔ ان کی مشہور کتاب ’’الاربعین‘‘ ہے۔ ۶۲۰ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۲، ص: ۱۸۷۔ طبقات الشافعیۃ الکبرٰی للسبکی، ج ۸، ص: ۱۷۵۔) [2] الاربعین فی مناقب امہات المومنین رضی ا للہ عنہن لابن عساکر، ص: ۹۰۔ [3] اسد الغابۃ لابن الاثیر، ج ۷، ص: ۱۸۶۔ [4] علی بن محمد بن سالم الآمدی الشافعی۔ اصولی، متکلم ۵۵۱ ہجری میں پیدا ہوئے۔ علوم معقولات و کلام میں مہارت حاصل کی۔ چنانچہ اپنے زمانے کے متکلمین کے وہ شیخ مشہور تھے۔ ملک معظم بن عادل نے انھیں جامع عزیزیہ کا مدرس مقرر کیا۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الاحکام فی اصول الاحکام‘‘ ہے۔ ۶۳۱ ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الشافعیۃ للسبکی، ج ۸، ص: ۳۰۶۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۲، ص: ۳۶۴۔) [5] ابکار الافکار فی اصول الدین للآمدی، ج ۵، ص: ۲۹۱۔