کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 325
﴿ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ (النور: ۱۱) ’’بے شک وہ لوگ جو بہتان لے کر آئے ہیں وہ تمہی سے ایک گروہ ہیں ، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘ جب ان پر بہتان تراشا گیا تو یہ آیات قیامت تک مسلمانوں کی مساجد، ان کی نمازوں ، ان کے محرابوں میں پڑھی جاتی رہیں گی۔ جن میں اس مظلومہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عفت و پاک دامنی ، طہارت اور محافظت کا اعلان کیا گیا اور جن ظالموں نے یہ بہتان تراشا تھا ان کے گناہ، عذاب عظیم اور متواتر لعنت کا اظہار کیا گیا۔ اس میں وہ جتنا بھی فخر کریں کم ہے اور ان پر الزام لگانے والوں کے لیے تیار کیے گئے عذاب دنیوی و اخروی کا تذکرہ ہے جو بے حد و حساب و بے کنار ہے۔ ۱۱۔ ابو القاسم اسماعیل اصبہانی[1] رحمہ اللہ (ت: ۵۳۵ ہجری): آپ فرماتے ہیں : ’’سیّدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی ا للہ عنہما اللہ کے محبوب کی محبوبہ، ہر عیب سے پاک ہر شک و شبہ سے بالاتر ہیں ۔ اللہ ان سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج سے راضی ہو جائے۔‘‘[2] ۱۲۔ الزمخشری رحمہ اللہ (ت: ۵۳۸ ہجری): آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اگر آپ قرآن کی تلاوت کریں اور اس میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کو جتنی وعیدیں دلائی
[1] اسماعیل بن محمد بن فضل ابو القاسم اصبہانی رحمہ اللہ ۔ حافظ کبیر اور شیخ الاسلام مشہور ہوئے۔ ۴۵۷ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے ائمہ کے امام ان کا لقب ’’قوام السنہ‘‘ تھا لوگوں کو حدیث کا درس دیتے جرح و تعدیل کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الترغیب و الترہیب‘‘ ہے۔ ۵۳۵ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۰، ص: ۸۰۔ شذرات الذہب لابن العماد، ج ۴، ص: ۱۰۴۔) [2] الحجۃ فی بیان المحجۃ لقوام السنۃ، ج ۱، ص: ۲۴۸۔