کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 323
ذرہ بھر بغض ہے، یا کسی صحابی رسول یا اہل بیت رسول کے کسی بھی فرد کے خلاف وہ کینہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے اور ان کی محبت کے واسطے ہمیں نفع دے۔‘‘[1]
۶۔ ابن شاہین (ت: ۳۸۵ ہجری):
فرماتے ہیں :
’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایسے بے شمار فضائل ہیں جو اور کسی میں نہیں ، مثلاً:
(۱)....قرآن کریم میں تقریبا مسلسل سولہ آیات ان کی براء ت میں نازل ہوئیں ۔
(۲)....نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر مواقع پر ان کے ساتھ مزاح فرماتے تھے۔
(۳)....وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھل کر بے تکلفانہ گفتگو کرتی تھیں جن کی کسی دوسرے میں جرأت نہ تھی۔
(۴)....اکثر اصحاب رسول کا اس حقیقت پر اجماع ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ترین شخصیت تھیں ۔ جیسا کہ ام سلمہ، عمار رضی ا للہ عنہما اور دوسروں نے روایت کیا ہے۔
(۵)....نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’’تمام عورتوں سے عائشہ اس طرح افضل ہیں جس طرح تمام کھانوں سے ثرید افضل کھانا ہے۔‘‘
(۶)نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دو بار دوڑنے کا مقابلہ کیا۔
(۷)....ایک دن سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’وَا عَرُوْسَاہ‘‘ ہائے میری دلہن! جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گھر میں نہ پایا۔ تب اللہ عزوجل ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔[2]
۷۔ ابو نعیم[3] رحمہ اللہ (ت: ۴۳۰ ہجری):
ابو نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
[1] حوالہ سابقہ، ج ۵، ص: ۲۴۲۸۔
[2] شرح مذاہب اہل السنۃ لابن شاہین، ص: ۳۰۳۔
[3] احمد بن عبداللہ بن احمد ابو نعیم الاصبہانی۔ حافظ، محدث العصر۔ ۳۳۶ ہجری میں پیدا ہوئے۔ پختہ حافظ تھے، علویت کی طرف مائل تھے۔ ان سے علم حاصل کرنے کے لیے حفاظ حدیث بکثرت آیا کرتے تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ اور ’’معرفۃ الصحابۃ‘‘ مشہور ہیں ۔ ۴۳۰ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۷، ص: ۴۵۳۔ وفیات الاعیان لابن خلکان، ج ۷، ص: ۳۷۳۔