کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 322
۲۔ عیسیٰ بن طلحہ (ت: ۱۰۰ ہجری): [1]
عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں : ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جنتی ہیں ۔‘‘[2]
۳۔ الشعبی رحمہ اللہ (ت: ۱۰۳ ہجری):
کسی نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ عائشہ کے علاوہ تمام امہات المومنین سے میں محبت کرتا ہوں ، تو شعبی رحمہ اللہ نے اس سے کہا:
’’تو اپنے اس قول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب سے زیادہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرتے تھے۔‘‘[3]
۴۔ ابو بکر خلال[4] رحمہ اللہ (ت: ۳۱۱ ہجری):
وہ فرماتے ہیں : ’’ام المومنین رضی اللہ عنہا نے سچ کہا، وہ اللہ عزوجل کے نزدیک پاک دامن ہیں ۔‘‘
۵۔ الآجری رحمہ اللہ (ت: ۳۶۰ ہجری):
فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے اوپر رحم کرے، تم جان لو کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت تمام امہات المومنین کو اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے فضیلت عطا کی۔ ان میں سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا شرف عظیم ہے اور وصف کریم ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں ۔‘‘[5]
نیز وہ فرماتے ہیں :
’’وہ شخص برباد و ہلاک اور خسارے میں ہو گیا جس کے دل میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف
[1] عیسی بن طلحہ بن عبیداللہ، ابو محمد مدنی یہ ثقہ عالم اور حلیم الطبع معزز تھے۔ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس نمائندہ بن کر آئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۴، ص: ۳۶۷۔ شذرات الذہب لابن العماد، ج ۱، ص: ۱۱۳۔
[2] الطبقات الکبری لابن سعد، ج ۸، ص: ۷۹۔
[3] المعجم الکبیر للطبرانی، ج ۲۳، ص: ۱۸۲۔
[4] احمد بن محمد بن ہارون ابوبکر خلال حنبلی۔ شیخ الحنابلہ، اپنے وقت کے امام، حافظ، فقیہ اور بہت بڑے عالم تھے ان کی مشہور تصنیفات ’’العلل‘‘ اور ’’الجامع لعلوم الامام احمد‘‘ ہیں ۔ (طبقات الحنابلہ لابن ابی یعلی، ج ۲، ص: ۱۱۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۴، ص: ۲۹۷۔)
[5] الشریعۃ للآجری، ج ۵، ص: ۲۳۹۴۔