کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 321
۸۔سیّدنا عبداللہ بن زبیر رضی ا للہ عنہما جب بھی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتے وہ کہتے: ’’اللہ کی قسم! سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی جھوٹ نہیں بولتیں ۔‘‘[1] ۹۔سیّدنا ابوایوب انصاری[2] رضی اللہ عنہ : ام ایوب رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’اے ابو ایوب! کیا تم نے وہ باتیں نہیں سنیں جو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق لوگ کہتے ہیں ؟ انھوں نے کہا: ہاں سنی ہیں اور یہ جھوٹ ہے، اے ام ایوب! کیا تم یہ کام کر سکتی ہو۔ اس نے کہا: نہیں ۔ اللہ کی قسم! میں یہ کام نہیں کر سکتی۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ پس عائشہ، اللہ کی قسم! تم سے بہت بہتر ہے۔‘‘[3] دوسرا نکتہ:....سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مناقب اور ان کے فضائل کے اعتراف میں اہل سنت کا قطعاً کوئی اختلاف نہیں ۔ لیکن ہم چاہتے ہیں ان کے مختلف مذاہب فقہیہ، مختلف مناہج کے اعتبار سے ، متقدمین و متاخرین اور معاصرین، متکلمین، اہل تصوف وغیرہم کے اقوال و آراء کو جمع کر دیں ۔ تاکہ جو لوگ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کے انکاری ہیں ان کی حیثیت واضح ہو جائے۔ ۱۔ عبید بن عمیر (ت: ۶۸ ہجری): ایک سائل آیا اور اس نے عبید بن عمیر سے پوچھا: لوگ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو انھوں نے جواب دیا:’’لوگ جو کچھ کہتے ہیں سو کہتے ہیں البتہ ان کے خلاف کوئی بات سن کر دکھ اسی کو ہوتا ہے جس کی وہ ماں ہے۔‘‘[4]
[1] الطبقات الکبری لابن سعد، ج ۸، ص: ۶۹۔ [2] خالد بن زید بن کلیب ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ۔ ہجرت مدینہ کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بنونجار میں سے اپنی میزبانی کا شرف بخشا۔ یہ عقبہ ثانیہ اور بدر سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں بصرہ کا والی بنایا اور انھیں کے ساتھ وہ خوارج کے خلاف معرکوں میں بھی شریک رہے۔ یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی قیادت میں یہ غزوہ قسطنطنیہ میں شریک ہوئی اور ۵۰ ہجری میں وہیں شہید ہوئے اور قلعہ کی فصیل کے باہر دفن ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲، ص: ۴۰۲۔ الاصابۃ لابن حجر، ج ۲، ص: ۲۳۴۔) [3] تفسیر ابن ابی حاتم، ج ۸، ص: ۲۵۴۶۔ تاریخ، دمشق لابن عساکر، ج ۱۶، ص: ۴۸۔ [4] الطبقات الکبرٰی لابن سعد، ج ۸، ص: ۷۸۔