کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 320
اس میں سے آپ کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیا اور مسلمانوں کے لیے اسے بابرکت بنا دیا۔‘‘[1]
ایک روایت میں ہے سیّدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا:
’’اے آل ابی بکر! تمہاری یہ پہلی برکت تو نہیں ہے۔‘‘[2]
۶۔سیّدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے روبرو کہا اور وہ خاموش رہے:
’’آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ سے کیا چاہتے ہیں ؟ آپ ام المومنین سے کیا چاہتے ہیں ؟ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی۔‘‘[3]
نیز انھوں نے کہا:
’’بے شک وہ دنیا و آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں ۔‘‘[4]
سیّدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس کسی آدمی نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بری بات کی تو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا:
’’اے قبیح و مردود! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچاتا ہے۔‘‘[5]
۷۔سیّدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں ایک قصیدہ کہا جس کے دو اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں اور مکمل قصیدہ آگے آ رہا ہے:
حَصَّانُ رَزَّانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیْبَۃٍ
وَ تُصْبِحُ غَرْثٰی مِنْ لُّحُوْمِ الْغَوَافِلِ
مُہَذَّبَۃٌ قَدْ طَیَّبَ اللّٰہُ خِیَمَہَا
وَ طَہَّرَہَا مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَ بَاطِلٍ
’’تہذیب یافتہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کی جبلت کو پاکیزہ بنایا ہے اور اسے ہر برائی اور باطل سے پاک کر دیا ہے۔‘‘
[1] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۷۷۳۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۳۶۷۔
[2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۳۴۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۳۶۷۔
[3] فضائل الصحابۃ للامام احمد، ج ۲، ص: ۸۶۸۔
[4] صحیح بخاری: ۳۷۷۲۔
[5] سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۳۸۸۸۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ترمذی، حدیث نمبر ۳۸۸۸ میں اسے ضعیف کہا ہے۔