کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 319
’’اے ام المومنین! آپ دو سچے منتظمین[1]، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جا رہی ہیں ۔‘‘[2] سیّدنا ابن عباس رضی ا للہ عنہما نے خوارج کو دعوت دیتے ہوئے اور ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’تمہارا یہ کہنا کہ علی رضی اللہ عنہ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ (واقعہ جمل) میں قتال تو کیا لیکن نہ قیدی بنائے اور نہ مال غنیمت حاصل کیا۔ (تو میں کہوں گا) کیا تم اپنی ماں کو قید کرتے اور ان سے وہ چیز حلال کرتے جو ان کے علاوہ (کافروں ) سے حلال کی جاتی ہے؟ اگر تم ایسا کرو گے تو کافر ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہاری ماں ہیں اور اگر تم یہ کہو کہ وہ ہماری ماں نہیں تو پھر بھی تم کافر بنو گے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ﴾ (الاحزاب: ۶) ’’یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔‘‘ ’’گویا تم دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے ہو۔ تم جو بھی اختیار کرو گے گمراہی کی طرف جاؤ گے۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ میں نے کہا: کیا میں اس شبہ سے نکل گیا ہوں ؟ سب نے کہا: جی ہاں ۔‘‘[3] ۵۔سیّدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا بدلہ دے، پس اللہ کی قسم! جب بھی آپ پر کوئی مصیبت آئی اللہ تعالیٰ نے
[1] الفرط: جو قافلے سے پہلے جا کر پڑاؤ والی جگہ پر آنے والوں کی رہائش وغیرہ کا بندوبست کرتا ہے اور یہاں ثواب اور شفاعت مراد ہے۔ (مقدمہ فتح الباری، ص: ۱۶۶۔ [2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۷۷۱۔ علامہ عینی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی ترجمۃ الباب سے یہ مطابقت ہے کہ سیّدنا ابن عباس رضی ا للہ عنہما نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے جنتی ہونے کی یقین دہانی کرائی۔ ایسی بات توقیفی ہی ہو سکتی ہے اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ (عمدۃ القاری، ج ۱۶، ص: ۲۵۱۔) [3] السنن الکبرٰی للنسائی، ج ۵، ص ۱۶۵، حدیث نمبر: ۸۵۷۵۔ المعجم للطبرانی، ج ۱۰، ص ۲۵۷، حدیث نمبر: ۱۰۵۹۸۔ مستدرک حاکم، ج ۲، ص: ۱۶۴۔ السنن الکبری للبیہقی، ج ۸، ص ۱۷۹، حدیث نمبر: ۱۷۱۸۶۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کی سند کو منہاج السنۃ، ج ۸، ص: ۵۳۰ پر صحیح کہا اور ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد، ج ۶، ص: ۲۴۲ میں کہا ہے کہ اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور اسے وادعی رحمہ اللہ نے الصحیح المسند: ۷۱۱ میں حسن کہا۔