کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 311
کے انتظار میں ہوتے اور جب ان کی باری والا دن آتا تو آپ پرسکون ہو جاتے اور آپ کا قلبی خلجان ختم ہو جاتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں : ’’پس جب میرا دن آتا تو آپ پر سکون ہو جاتے۔‘‘[1] ہم نے یہ بات بارہا تحریر کر دی ہے کہ تمام امہات المومنین تقویٰ، زہد، عالی مرتبت، شرافت نفس اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خاوند حسن سلوک میں ایک ہی منہج پر گامزن تھیں ۔ اس سب کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے اس سوال کا بارہا تکرار کہ میں کل کہاں جاؤں گا؟ ہماری امی جان سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والہانہ شوق کو ظاہر کرتا ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دیگر امہات المومنین کی نسبت کچھ منفرد خصوصیات تھیں اور جنت میں بھی مختلف و متعدد درجات و منازل ہیں اگرچہ سب پر جنت کا ہی اطلاق ہوتا ہے اور انہی ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز کی امامت کے لیے حکم دیا۔[2] یہ اس مبارک گھر پر فضل عظیم ہے۔ اس کے بارے میں ایک فقیہ امت، عالم ربانی ابو الوفاء بن عقیل[3] نے پوری امت مسلمہ کو خصوصی توجہ دلائی ہے، ابو الوفاء رقمطراز ہیں : ’’آپ غور کریں کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اس کی بیٹی کا گھر منتخب کیا جس کے باپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ نماز کی امامت کا حکم دیا۔ تو یہ دلوں پر جمی ہوئی کیسی غفلت ہے کہ رافضہ کے دل اس فضل و شرف و مرتبے سے ہر زمانے میں غافل رہتے ہیں جو کسی چوپائے سے بھی مخفی نہیں رہ سکتے تو ان زبان درازوں سے کیوں مخفی ہو گئے ہیں ۔‘‘[4] ۸:.... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ جب کسی اور بیوی کے لحاف میں ہوتے تو
[1] صحیح بخاری، حدیث نمبر،۱۳۸۹۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۴۴۳۔ [2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۶۴۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۴۱۸۔ [3] علی بن عقیل بن محمد ابو الوفاء بغدادی علامہ کبیر شیخ الحنابلہ ہیں ۔ ۴۳۱ ہجری میں پیدا ہوئے۔ قاری قرآن، فقہ و اصول فقہ کے ماہر اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’کتاب الفنون‘‘ جو چار سو سے زائد مجلدات پر مشتمل تھی اور ’’الفصول‘‘ مشہور ہیں ۔ ۵۱۳ ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الحنابلۃ لابن رجب، ج ۱، ص: ۳۱۶۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۹، ص: ۴۴۳۔) درء تعارض العقل مع النقل، ج ۸، ص: ۶۰ پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عقیل ذہین و فطین علماء میں سے ایک تھے۔ [4] الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ رضی اللہ عنہا علی الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم للزرکشی، ص: ۵۴۔