کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 309
تھی۔ تو میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے جاری رکھے گا۔‘‘[1] ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’سیّدنا جبریل علیہ السلام سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصویر ایک سبز ریشمی کپڑے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا دنیا و آخرت میں یہ آپ کی بیوی ہے۔‘‘[2] ۷:.... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو اپنی مرض الموت میں عیادت کے لیے آنے والوں کے لیے منتخب کیا اور آپ کی وفات انہی کے گھر میں ان کے دن میں ان کے سینے اور حلقوم کے درمیان ہوئی اور آخری لمحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن ان کے لعاب دہن کے ساتھ اکٹھا ہوا اور انہی کا گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن بنا، وغیرہ سب کچھ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے باعث فخر و مباہات ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ((أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم کَانَ یَسْأَلُ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ یَقُولُ أَیْنَ أَنَا غَدًا أَیْنَ أَنَا غَدًا یُرِیدُ یَوْمَ عَائِشَۃَ فَأَذِنَ لَہُ أَزْوَاجُہُ یَکُونُ حَیْثُ شَائَ فَکَانَ فِی بَیْتِ عَائِشَۃَ حَتَّی مَاتَ عِنْدَہَا۔)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں پوچھتے رہتے تھے میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری چاہتے تھے۔ چنانچہ آپ کی بیویوں
[1] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۵۱۲۵۔ علامہ زرکشی نے فتوح الفتوح میں ابن الجوزی سے روایت نقل کی ہے کہ: ’’سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے فخریہ کہا: تم میں سے ہر ایک کی شادی اس کے باپ نے کرائی جبکہ میری شادی میرے رب نے کرائی۔ ان کا اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف تھا﴿ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ (الاحزاب: ۳۷) ’’پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا۔‘‘ اور میں توبہ کرتی ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے زینب! تم نے سچ کہا۔ لیکن اس خصوصیت میں عائشہ بھی تیری شریک ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کے ہمراہ اس کی تصویر ریشمی کپڑے میں میرے طرف بھیجی تو اس نے میرے سامنے اسے کھولا اور کہا یہ آپ کی بیوی ہے یہ شادی لوح محفوظ میں محفوظ ہے۔ اگرچہ اس پر عمل اس وقت ہوا جب عقد نکاح منعقد ہوا۔ تاہم عائشہ رضی اللہ عنہا کا چناؤ اپنے رسول کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا اور اے زینب تیرا انتخاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے خود کیا۔‘‘ (الاجابۃ للزرکشی، ص: ۷۰۔) [2] سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۳۸۸۰۔ مسند بزار، ج ۱۸، ص ۲۲۰، حدیث نمبر: ۲۲۶۔ صحیح ابن حبان، ج ۱۶، ص ۶، حدیث نمبر: ۷۰۹۴۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن، غریب ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی میں صحیح کہا ہے۔ حدیث نمبر: ۳۸۸۰۔