کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 307
۴:.... یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر آپ کسی وادی میں پڑاؤ کریں جس میں درخت ہوں اور ان میں سے کچھ کھا لیے گئے ہوں اور ان میں ایک درخت ایسا ہو جس میں سے ابھی کچھ نہ کھایا گیا ہو تو آپ کون سے درخت پر اپنا اونٹ چرائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس درخت پر جس میں سے کچھ نہ چرا گیا ہو۔‘‘ اس سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی۔‘‘[1]
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ جس میں وہ فرماتی ہیں :
((اُعْطِیْتُ تِسْعًا مَا اُعْطِیَتْہَا امْرَاَۃٌ اِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَ فِیْہِ وَ لَقَدْ تَزَوَّجَنِیْ بِکْرًا وَ مَا تَزَوَّجَ بِکْرًا غَیْرِیْ)) [2]
’’مجھے نو(۹) ایسے انعامات ملے جو مریم بنت عمران رحمہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں ملے۔ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ سے کنوار پن کی حالت میں شادی کی میرے علاوہ کسی اور کنواری سے آپ نے شادی نہیں کی۔‘‘
ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں :
’’مجھ میں سات(۷) خصوصیات ایسی ہیں جو میرے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی میں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو میں کنواری تھی اور میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔‘‘[3]
علامہ عبدالعزیز لمطی[4] رحمہ اللہ نے (قرۃ الابصار) میں یہ اشعار کہے:
[1] مذکورہ بالا تمام احادیث کے حوالہ جات درج ذیل ہیں : فضائل ابی بکر صدیق، ص: ۳۶۔ شرح مسلم للنووی، ج ۱۵، ص: ۱۴۸، منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ رحمہ اللہ، ج ۸، ص: ۲۲۵، الاعتقاد للبیہقی، ص: ۳۶۹۔ فتح الباری لابن حجر، ج ۷، ص: ۱۷۔ صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۵۰۷۷۔
[2] اس کی تخریج گزر ہو چکی ہے۔
[3] مسند ابی حنیفۃ، ص: ۱۱۶۔ الآثار لابی یوسف، ص: ۹۳۲۔
[4] عبدالعزیز بن عبدالعزیز اللمطی المکناسی المیمونی المالکی فقیہ اور نحو کے عالم تھے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’قرۃ الابصار فی سیرۃ المشفع المختار‘‘ ہے۔ ۸۸۰ ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۴، ص: ۲۱۔ معجم المؤلفین لکحالۃ، ج ۵، ص: ۲۵۰۔)