کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 306
’’ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منتخب لوگوں کا تذکرہ کرتے تھے۔ ہم اوّل الذکر سیّدنا ابوبکر کو، ثانی الذکر سیّدنا عمر بن خطاب کو اور ثالث الذکر سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کو قرار دیتے تھے۔‘‘
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی زندہ تھے، تو ہم کہا کرتے تھے:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین انسان ابوبکر ہیں پھر عمر پھر عثمان رضی اللہ عنہم ہیں ۔‘‘[1]
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے اہل سنت کے تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام صحابہ اور تمام انسانوں میں سے افضل ترین سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔[2]
امام شافعی[3] رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے متبعین رحمہم اللہ کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین انسان ابوبکر پھر عمر رضی ا للہ عنہما ہیں ۔ متعدد علمائے امت جیسے کہ امام شافعی، ابو طالب العشاری[4]، نووی، ابن تیمیہ[5] رحمہ اللہ ، امام بیہقی[6] رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہم اللہ نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے۔[7]
[1] سنن ابی داود، حدیث نمبر: ۳۶۲۸۔ ابو داود نے اس روایت پر سکوت کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داود میں اسے صحیح کہا ہے۔
[2] لوامع الانوار البہیۃ للسفارینی، ج ۲، ص: ۳۱۲۔ اصول الدین للغزنوی، ص: ۲۸۷۔ الفرق بین الفرق، ص: ۳۵۹۔ تاریخ الخلفاء للسیوطی: ۳۸۔
[3] محمد بن ادریس بن عباس ابو عبد اللہ الشافعی۔ اپنے زمانے کے عالم، حدیث کے ناصر ، اُمت کے ہیں ۔ ۱۵۰ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اربعہ ائمہ مذاہب فقہ میں سے ایک ہیں ۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’الرسالۃ‘‘ اور ’’الام‘‘ مشہور ہیں ۔ ۲۰۴ ہجری میں وفات پائی۔ (مناقب الشافعی للبیہقی۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۰، ص: ۵۔)
[4] محمد بن علی بن فتح ابو طالب عشاری۔ اپنے وقت کے فقیہ، عالم، زاہد اور سابق الخیرات تھے۔ دس محرم کی رات کی فضیلت میں ایک حدیث وضع کر کے ان کی طرف منسوب کر دی گئی۔ ۴۵۱ ہجری میں وفات پائی۔ (بحوالہ میزان الاعتدال، ج ۳، ص: ۶۵۶۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۸، ص: ۴۸۔)
[5] احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام ابو العباس الحرانی الحنبلی رحمہ اللہ ۔ ۶۶۱ ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’الصارم المسلول‘‘ اور ’’منہاج السنۃ النبویۃ‘‘ ہیں ۔ ۷۲۸ ہجری میں وفات پائی۔ (شذرات الذہب لابن العماد، ج ۶، ص: ۷۹۔ الکواکب الدریۃ فی مناقب ابن تیمیۃ لمرعی الکرمی۔)
[6] احمد بن حسین بن علی ابوبکر البیہقی، حافظ، فقیہ، امام وقت، شیخ خراسان ۳۸۳ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے فنون کے ماہر تھے۔ بے نظیر کتب تصنیف کیں جن میں سے ’’السنن الکبرٰی‘‘ اور ’’شعب الایمان‘‘ مشہور ہیں ۔ ۴۵۸ ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۳۵، ص: ۱۴۵۔ وفیات الاعیان لابن خلکان، ج ۱، ص: ۷۵۔)
[7] فتح الباری لابن حجر، ج ۷، ص: ۱۷۔