کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 305
اس بات کے کچھ دلائل کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے: ۱۔سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ((أَنَّ النَّاسَ کَانُوا یَتَحَرَّوْنَ بِہَدَایَاہُمْ یَوْمَ عَائِشَۃَ یَبْتَغُوْنَ بِہَا أَوْ یَبْتَغُوْنَ بِذَلِکَ مَرْضَاۃَ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔))[1] ’’لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تحائف دینے کے لیے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کی باری) کے دن کا انتظار کرتے۔ وہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتے تھے۔‘‘ ۲۔ام المؤمنین سیّدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب سن یاس کو پہنچ گئیں تو انھوں نے اپنا دن سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دیا۔ اس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کی متلاشی تھیں ۔[2] علامہ عینی[3] رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی باری والا دن انھوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ دیا۔‘‘[4] ۳:.... یہ کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے والد گرامی قدر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین صحابی تھے۔ اس کی دلیل سیّدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث ہے۔[5] اسی طرح ان کے والد محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین آدمی تھے۔ چنانچہ سیّدنا ابن عمر رضی ا للہ عنہما سے روایت ہے: ((کُنَّا نَقُوْلُ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم حَيٌّ: اَفْضَلُ اُمَّۃ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم بَعْدَہٗ اَبُوْبَکْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ رضی اللّٰه عنہم ۔))[6]
[1] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۲۵۸۱۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۴۴۱۔ [2] صحیح بخاری، حديث نمبر: ۲۵۹۳۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۴۶۳۔ [3] محمود بن احمد بن موسیٰ ابو محمد العینی بدر الدین الحنفی رحمہ اللہ ۔ اپنے وقت کے حافظ، محدث اور رئیس قضاۃ تھے۔ ۷۶۲ ہجری میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ میں محتسب اعلیٰ رہے اور جیل کے مفتش اور مذہب ابی حنیفہ کے قاضی رہے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’عمدۃ القاری‘‘ شرح صحیح البخاری اور ’’فرائد القلائد‘‘ مشہور ہیں ۔ ۸۵۵ ہجری میں وفات پائی۔ (نظم العقیان للسیوطی، ص: ۱۷۴۔ الاعلام للزرکلی، ج ۷، ص: ۱۶۳۔) [4] عمدۃ القاری للعینی، ج ۱۲، ص: ۲۹۶۔ [5] اس کی تخریج گزر چکی ہے۔ [6] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۶۵۵۔