کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 304
فضیلت ہے۔‘‘
سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((کَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَائِ إِلَّا آسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَمَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ۔))[1]
’’مرد تو بے شمار کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ، عمران کی بیٹی مریم علیہا السلام کامل ہیں اور بے شک عائشہ کو تمام عورتوں پر اس طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔‘‘
۲:.... نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے زیادہ عائشہ رضی اللہ عنہا محبوب ہیں اور سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس کی واضح دلیل موجود ہے، جب انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کو سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت ہے؟ تو آپ نے فرمایا:
((عَائِشَۃ، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: اَبُوْہَا)) [2]
’’عائشہ کے ساتھ۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: مردوں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے باپ کے ساتھ۔‘‘
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’یہ ثابت شدہ حدیث روافض کے ناک خاک آلود ہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف طیبات ہی سے محبت کرتے تھے۔‘‘[3]
جو نصوص سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر دلالت کرتی ہیں وہ بے شمار ہیں ان میں سے کچھ تو ہم تحریر کر چکے ہیں اور کچھ اب احاطہ تحریر میں لائیں گے۔
بے شک صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ علم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت کرتے ہیں ۔ چنانچہ
[1] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۴۱۱۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۴۳۱۔
[2] اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔
[3] سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲، ص: ۱۴۲۔ آخری جملہ سیّدنا ابن عباس رضی ا للہ عنہما کا ہے۔ انھوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے کہا تھا۔ ’’بے شک آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پاک چیزوں سے محبت کرتے تھے۔‘‘ (مسند احمد، ج ۱، ص: ۲۲۰۔)