کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 301
دی اور ان کی شان میں قرآن نازل ہوا اور جنھوں نے ان پر جھوٹا بہتان لگایا تھا ان کو کذاب کہا گیا اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کر دیا اور اہل ایمان کی آنکھوں کو حلاوت بخشی اور منافقین کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دیں ۔ اس وقت سے علمائے امت اس ذات مطہرہ کے فضائل جمع کرنے کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں کہ جو دنیا و آخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہے۔‘‘[1] قرآن کریم اور ذکر الحکیم میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت میں متعدد آیات نازل ہوئیں نیز ان کی منقبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث بھی تواتر کے درجے پر پہنچتی ہیں ۔ کتاب اللہ العزیز میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہونے والی آیات مبارکہ میں سے درج ذیل ہیں : اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ (النور: ۲۳) ’’بے شک وہ لوگ جو پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘ سیّدنا ابن عباس رضی ا للہ عنہما ، ضحاک[2] اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم[3] رحمہم اللہ فرماتے ہیں : ’’یہ آیات خصوصاً سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئیں ۔ [4] یہ آیت کریمہ ان سترہ آیات میں سے ایک ہے جو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان براء ت میں نازل
[1] الشریعۃ، ج ۵، ص: ۲۳۹۴۔ [2] ضحاک بن مزاحم ہلالی ابو القاسم خراسانی، مفسر قرآن تھے۔ یہ بذات خود صدوق تھے۔ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث کی روایت کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی صحابی سے ان کا سماع ثابت نہیں ۔ تقریباً ۱۰۲ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۴، ص: ۵۹۸۔ تہذیب التہذیب لابن حجر، ج ۲، ص: ۵۷۲۔) [3] عبدالرحمن بن زید بن اسلم قریشی بنی عدی کے آزاد کردہ تھے۔ قاری قرآن و مفسر قرآن تھے۔ ایک جلد میں قرآن کی تفسیر لکھی اور الناسخ و المنسوخ پر ایک کتاب تحریر کی۔ ۱۸۲ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی رحمہ اللہ، ج ۸، ص: ۳۴۹۔ تہذیب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ، ج ۳، ص: ۳۶۳۔ [4] کتاب التفسیر لابن ابی حاتم، ج ۸، ص: ۲۵۵۶۔ حاکم، ج ۴، ص: ۱۱۔ تفسیر ابن جریر، ج ۱۷، ص: ۲۲۹۔ الدر المنثور للسیوطی، ج ۶، ص: ۱۶۴۔