کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 297
آپ نے میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔‘‘[1]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ تو بھی ان میں سے ہے اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گی۔
ب:سیّدنا عمار بن یاسر رضی ا للہ عنہما [2] سے روایت ہے:
’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو جبریل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ حفصہ سے رجوع کریں کیونکہ وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والی اور بہت زیادہ تہجد گزار ہے اور بے شک وہ جنت میں آپ کی بیوی ہے۔‘‘[3]
ج:جب سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرتے ہوئے سیّدنا طلحہ وغیرہ کے ساتھ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں تو ایک آدمی نے ان کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنے کی کوشش کی، اس وقت سیّدنا عمار بن یاسر رضی ا للہ عنہما نے فرمایا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کی شان میں کیا کہہ رہا ہے تو ام المومنین کا احترام کیوں نہیں کرتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی۔ عمار بن یاسر رضی ا للہ عنہما نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات کہی اور وہ خاموش رہے۔[4]
۵۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیاتِ تخییر نازل ہوئیں :
﴿ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ
[1] ! ابن حبان، ج ۱۶، ص ۸، حدیث نمبر: ۷۰۹۶۔ الطبرانی، ج ۲۳، ص ۳۹، حدیث نمبر: ۱۹۰۵۳۔ الحاکم، ج ۴، ص: ۱۴، حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ میں کہا یہ حدیث مسلم کی شرط پر ہے۔ ج ۳، ص: ۱۳۳۔
[2] عمار بن یاسر بن عامر ابو الیقظان عنسی رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے آزاد کردہ ہیں ۔ جلیل القدر صحابیٔ رسول اور السابقین الاولین میں سے ہیں ۔ اللہ کی راہ میں انھیں بڑے مصائب جھیلنے پڑے۔ دوبار ہجرت کی اور دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ بدر سمیت تمام غزوات میں شامل رہے۔ بدر و یمامہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں بڑے اجر و مرتبہ سے نوازا۔ ۳۷ ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر، ج ۱، ص: ۳۵۱۔ الاصابۃ لابن حجر، ج ۴، ص: ۵۷۵۔)
[3] البزار، ج ۴، ص ۲۳۷، حدیث نمبر ۱۴۰۱۔ الطبرانی، ج ۲۳، ص: ۱۸۸، حدیث نمبر: ۳۰۶۔ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، ج ۲، ص: ۵۰، ہیثمی نے مجمع الزوائد ج ۹، ص: ۲۴۷ میں کہا اسے بزار اور طبرانی نے روایت کیا اور اس کی دونوں اسناد میں حسن بن ابی جعفر نامی ایک راوی ہے جو ضعیف ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع، حدیث نمبر: ۴۳۵۱ پر اسے حسن کہا ہے۔
[4] فضائل الصحابۃ للامام احمد، ج ۲، ص: ۸۶۸۔