کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 291
تیسرا مبحث: سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حکمت بھرے اقوال زرّیں [1] ۱۔جو چیز اللہ کے پاس ہے وہ غیر اللہ سے نہ مانگو کیونکہ غیر اللہ سے مانگنے سے اللہ تعالیٰ غضب ناک ہوتا ہے ۔[2] ۲۔ہر وہ باعث عزت کام جس کا انجام ملامت ہو تو وہ قابل ملامت ہے اور ہر وہ باعث عار و ملامت کام جس کا انجام عزت ہو تو وہ باعث شرف ہے۔[3] ۳۔بے شک اللہ کی ایک مخلوق ہے ان کے دل پرندوں کی طرح ہیں جونہی ہوا چلے وہ ہوا کے ساتھ ہی ہلنے لگتے ہیں پس بزدلوں پر تف ہو پس بزدلوں پر تف ہو!! [4] ۴۔جو اللہ کی رضا کے لیے لوگوں کو ناراض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے لوگوں کی طرف سے کافی ہو جاتا ہے اور جو اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کو راضی کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔[5] ۵۔تم گناہ کم کیا کرو کیونکہ تم اللہ عزوجل کے پاس قلت ذنوب سے افضل کوئی چیز نہیں لے جا سکتے۔[6] ۶۔بے شک تم افضل ترین عبادت سے غفلت کرتے ہو (یعنی التواضع)۔ [7] ۷۔بے شک بندہ جب اللہ کی معصیت کا مرتکب ہوتا ہے تو لوگوں میں سے اس کی تعریف کرنے والا اس کی مذمت کرنے والا بن جاتا ہے۔[8] ۸۔افضل ترین عورت وہ ہے جو نہ بدکلامی کرے اور نہ ہی مردوں کے دھوکے میں آئے۔ اس کا دل ہر قسم کی سوچ سے خالی ہو سوائے اپنے خاوند کے لیے زینت کرنے کے اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت پر گامزن رہنے کے۔[9]
[1] مزید مطالعہ کے لیے مشاہیر النساء المسلمات لعلی بن نایف اشحود، ص: ۵۶ سے استفادہ کریں ۔ [2] المجالسۃ و جواہر العلم للدینوری، ج ۵، ص: ۲۲۔ [3] البیان و التبیین للجاحظ، ج ۲، ص: ۶۷ الفاضل للمبرد، ص: ۷۔ [4] نہایۃ الارب للنویری، ج ۳، ص: ۳۱۸۔ [5] الزہد للامام احمد رحمہ اللہ، ص: ۱۶۴۔ [6] حوالہ سابقہ، ص: ۱۶۵۔ [7] حوالہ سابقہ، ص: ۱۶۴۔ [8] حوالہ سابقہ، ص: ۱۶۵۔ [9] محاضرات الادباء للراغب الاصبہانی، ج ۲، ص: ۲۲۲۔