کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 284
اس میں مخفی احکام فقہیہ کی وضاحت اور سوال کرنے والے کو مکمل طور پر مطمئن کرنا ان کا خاصہ تھا۔
۶۔انھوں نے بوقت سفر آخرت امت کے لیے اعلیٰ ترین نمونہ قائم کیا۔ جب مدینہ منورہ مکمل طور پر خوف کے سایے میں تھا اور ان کی رحلت کا وقت قریب آ گیا تو انھوں نے مطلق طور پر بھی اتباع سنت کی وصیت کی اور یہ بھی کہ ان کے جنازہ کو رات کے وقت قبرستان لے جایا جائے اور جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جائی جائے یعنی جنازے کے ساتھ بھی اتباع سنت پر عمل کیا جائے۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔[1]
٭٭٭
[1] السیدۃ عائشۃ بنت ابی بکر رضی ا للہ عنہما لخالد العلمی، ص: ۱۷۔