کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 272
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عروہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کرتے تھے :
’’اے امی جان! مجھے آپ کی فہم و فراست پر کوئی تعجب نہیں کیونکہ مجھے معلوم ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اور سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں اور نہ ہی مجھے آپ کے شعر کے متعلق علم پر تعجب ہے اور نہ آپ کے اس علم پر مجھے تعجب ہے کہ آپ عربوں کی تاریخ و ثقافت سے واقف ہیں ۔ میں یہی کہوں گا کہ آخر کار آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں اور وہ سب سے زیادہ جاننے والے لوگوں میں سے تھے۔ لیکن مجھے علم الطب پر آپ کی دسترس پر تعجب ہوتا ہے۔ یہ کس طرح آپ تک پہنچا؟‘‘
بقول راوی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے میرا کندھا تھپتھپایا اور فرمایا:
’’اے عریہ! [1] بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی آخری عمر میں مختلف امراض نے گھیر لیا، تو ہر طرف سے آپ کے پاس عربوں کے وفد آتے جو آپ کے لیے مختلف علاج و ادویہ[2] تجویز کرتے اور میں آپ کو دوائیں دیتی[3] تو اس طرح مجھے علم طب کے بارے میں آگاہی ہوئی۔‘‘[4]
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تعلیم طب کے لیے کسی طبیب کی تعلیم یا کسی مدرب کی تدریب پر اعتماد نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنی فہم و ذکاء اور اپنے مشاہدے کو اپنی تعلیم کی بنیاد بنایا۔[5]
عروہ رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں :
’’میں نے فقہ، طب اور شعر میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا کوئی عالم نہ دیکھا۔‘‘[6]
٭٭٭
[1] عریۃ: عروہ کی تصغیر۔ (مشارق الانوار للقاضی عیاض، ج ۲، ص: ۱۱۱)
[2] الانعات: جمع نعت بمعنی ادویہ مجوزہ۔ (کتاب العین للخلیل بن احمد، ج ۲، ص: ۷۲۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر، ج ۵، ص: ۷۹۔)
[3] اعالجہا: یعنی وہ دوائیں میں بناتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلاتی۔ (تاج العروس للزبیدی، ج ۶، ص: ۱۰۹۔)
[4] مسند احمد، ج ۶، ص ۶۷، حدیث نمبر: ۲۴۴۲۵۔ الطبرانی، ج ۱۲۳، ص: ۱۸۲، حدیث نمبر: ۲۹۵۔ الحاکم، ج ۴، ص: ۲۱۸۔ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، ج ۲، ص: ۵۰۔ حاکم نے کہا اس کی سند صحیح ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
[5] السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمہ نساء الاسلام، ص: ۲۰۲۔ لعبد الحمید طہمان۔)
[6] مصنف ابن ابی شیبۃ، ج ۸، ص: ۵۱۷۔ المعجم الکبیر، للطبرانی، ج ۲۳، ص ۱۸۲، حدیث نمبر: ۲۹۴۔ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ للالکائی، ج ۸، ص ۱۵۲، حدیث نمبر: ۲۷۵۹۔